مقبوضہ کشمیر :عدالت کا تعلیمی ادارے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو دوبار کھولنے کا حکم
سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شوپیاں کی ایک عدالت نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون(یو اے پی اے)کے تحت بند کیے گئے دینی تعلیمی ادارے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شوپیاں محمود احمد چوہدری نے امام صاحب، شوپیاں میں قائم دارالعلوم سراج العلوم کو دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دی ۔ادارے کورواں سال اپریل میں یو اے پی اے کے تحت بند کردیا گیا تھا۔ایس ایم اقبال اورایڈووکیٹ بشارت عبداللہ دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کی طرف عدالت میں پیش ہوئے ۔انہوںنے بتایا کہ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک ادارے کو دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے قابض انتظامیہ کو ادارے سے متعلق حقائق کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ یہ حکم مدرسے کی جانب سے مسلسل بندش کے خلاف عبوری ریلیف کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا۔ ایس ایم اقبال نے بتایا کہ مدرسے میں تقریبا 1,200 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے تاہم بچوں کے مستقبل اور تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے عبوری درخواست دائر کی گئی تھی۔انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ادارے کی مسلسل بندش کے باعث اس کی املاک اور عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہورہی تھیں اور ان کی مناسب دیکھ بھال کے لیے انتظامی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔
ایس ایم اقبال کے مطابق عدالت نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر قابض انتظامیہ کی جانب سے پیش کیا گیا مواد پورے ادارے کو بند رکھنے کے جواز کے لیے کافی نہیں ہے۔ عدالت نے ادارے کو دوبارہ کھولنے کی اجازت تین رکنی کمیٹی کی نگرانی سے مشروط کردی ہے، جوانتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی جائے گی۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ اس حکم کو اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بڑے پیمانے پر مشتہر کیا جائے تاکہ ادارے سے چلے جانے والے طلبہ بلا رکاوٹ واپس آسکیں، خواہ انہوں نے کسی دوسرے ادارے میں داخلہ ہی کیوں نہ لے لیا ہو۔
دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گرگ کی جانب سے 24 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے حکم کے بعد بند کیا گیا تھا۔
اپریل کے حکم میں ادارے اور جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے درمیان مبینہ طور پر مسلسل اور خفیہ روابط کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر بھارتی حکومت نے 2019 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت پابندی عائد کی تھی۔ادارے کی بندش کے حکومتی فیصلے پر مقبوضہ علاقے کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی تنقید کی گئی تھی اور متعدد رہنمائوں نے حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
ادھر جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ فلاحِ عام ٹرسٹ کے زیر انتظام 300سے زائد تعلیمی اداروں کو بھی قابض انتظامیہ نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر کام کرنے سے روک رکھا ہے۔
جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر بھارتی وزارت داخلہ نے فروری 2019 میں غیر قانونی تنظیم قرار دے کر پابندی عائد کی تھی، جبکہ فروری 2024 میں اس پابندی میں مزید پانچ سال کی توسیع کردی گئی۔






