بھارت

اسد الدین اویسی کا مذہب کی بنیاد پر آبادیاتی اعداد و شمار جمع کرنے پر اظہار تشویش

اعداد و شمار کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور حقوق سلب کرنے کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے

نئی دہلی:آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اسد الدین اویسی نے مودی کی بھارتی حکومت کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر آبادیاتی اور سماجی و اقتصادی اعداد و شمار اکٹھے کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اعدادوشمار کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے باقی ماندہ حقوق مزید محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اویسی نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ ردعمل بھارتی میڈیا کی ان رپورٹس پر ظاہر کیا کہ آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں سے متعلق اعلی سطح کمیٹی نے ریاستوں سے مذہب کی بنیاد پر گاڑیوں کی رجسٹریشن، جائیداد کے لین دین اور دیگر آبادیاتی اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔اس الدین اویسی نے کہا کہ جب مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور معاشی حالات سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو مودی حکومت نے اس سے گریز کیاتھا، تاہم اب وزیر داخلہ امت شاہ کی زیر نگرانی قائم کمیٹی ریاستوں سے یہ معلومات طلب کر رہی ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے کتنی گاڑیاں خریدیں اور ان کے پاس کتنی زمین ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد اعداد و شمار کی بنیاد پر بہتر پالیسیاں تشکیل دینا نہیں بلکہ ان اعداد و شمار کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے باقی ماندہ حقوق سلب کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایچ ایل سی ڈی سی نے گزشتہ 15 برس کے دوران پیدائش، گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسکولوں میں داخلوں اور جائیداد کے لین دین کا مذہب کی بنیاد ڈیٹا طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ اضلاع کی سطح پر مذہبی مقامات کی تفصیلات اور آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کے اندراجات میں غیر معمولی اضافے سے متعلق معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔ KMS-Y

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button