مقبوضہ جموں وکشمیر :ڈوڈہ میڈیکل کالج میں برقعے پر پابندی کے خلاف احتجاج
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں واقع گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ کے طلباءنے برقعہ پوش طالبات کو لیبر روم میں داخلے سے روکنے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، طلباجن میں زیادہ تر گائناکالوجی (امراضِ نسواں) کے شعبے سے وابستہ نرسنگ ٹرینیز اور انٹرنز شامل تھیں ، نے شکایت کی کہ انہیں برقعہ پہن کر لیبر روم میں داخل ہونے سے روکا گیا اور کہا گیا کہ وہ یہ لباس اتار دیں یا اس کی جگہ ایپرن پہن لیں۔ انہوں نے اس رویے کو ہراساں کرنے کے مترادف قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ ان کے مذہبی لباس کو ہی کیوں ہدف بنایا جا رہا ہے۔
طالبات کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ بار بار پیش آیا ہے۔ بدھ کے روز میڈیکل کالج میں ہونے والے احتجاج کے دوران انہوں نے منصفانہ تحقیقات اور الزامات کے درست ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ ان کی شناخت اور فخر کا حصہ ہے۔
برقعے پر اعتراض کا یہ معاملہ شعبہ گائناکالوجی کی سربراہ ڈاکٹر مدھو چب کے حوالے سے ہے۔ طلبانے کہا ہے کہ مدھو نے برقعہ پوش طالبات کو لیبر روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
دریں اثنا ڈوڈہ سے علاقے کی قانون ساز اسمبلی کے رکن معراج ملک نے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ وزیر صحت سکینہ اِتو کے سامنے اٹھایا ہے اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی حکومت والی بھارتی ریاستوں میں بھی مسلم طالبات کے حجاب کو نشانہ بنانے کے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔ ڈوڈہ کا یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھی مکمل طورپر ہندو توا کے رنگ میں رنگنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے








