تلنگانہ: بی جے رہنما نے سکول میں داخل ہو کر مسلم معلمہ کو ڈرایا دھمکایا
حیدرآباد :ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے ایک اسکول میں بی جے پی رہنمااکولا سریوانی کی قیادت میں ہندوتوا تنظیم کے ارکان نے ایک مسلم معلمہ کو ہراساں کیا اور ڈرایا دھمکایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندو توا کارکن سری وینکٹیشور کالونی میں واقع ساگریکا انٹیگریٹڈ ہائی اسکول کے پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوئے اور الزام لگایا کہ ایک استانی نے طلبا سے کہا تھا کہ وہ اپنی کلائیوں پر بندھی ‘راکھیاں’ اتار دیں۔ سریوانی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ طلبہ کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، ایودھیا میں رام مندر اور بھارت کی اقتصادی ترقی کے خلاف باتیں بتائی جا رہی تھیں۔
استانی نے وضاحت کی کہ راکھیاں گندی ہو گئی تھیں اور اسی لیے انہوں نے طلبہ سے انہیں اتارنے کا کہا تھا۔
آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے نوجوان رہنما محمد عمران احمد نے سریوانی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ” نجی اسکول میںداخل ہونا، استاد کو ڈرانا دھمکانا اور صفائی ستھرائی کے ایک معاملے کو ’تعلیمی جہاد‘ کا رنگ دینا ، غنڈہ گردی کے سوا کچھ نہیں۔”۔






