مقبوضہ جموں و کشمیر

یوم آزادیِ پاکستان: کشمیریوں کا پاکستان سے اٹوٹ تعلق اور حقِ خودارادیت کا عزم

اسلام آباد:پاکستان کا یوم آزادی کشمیریوں کو اُس تاریخی جدوجہد اور عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک آزاد ریاست کا وجود عمل میں آیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایمان، تہذیب، تاریخ اور ثقافت کے گہرے رشتے ہیں اور کشمیری عوام پاکستانی عوام کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جذباتی تعلقات کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔کشمیریوں نے 19 جولائی 1947 کو برصغیر کی تقسیم کے موقع پر ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کا عزم کیا تھا۔یہ تقسیم کشمیر کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیے بغیر نامکمل ہے۔پاکستان کی طرف بہنے والے کشمیر کے دریا اس خطے کے پاکستان کے ساتھ گہرے جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں کی علامت ہیں۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار دے کر اس اہمیت کو بخوبی اجاگر کیاتھا۔پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیری پاکستان کے ساتھ ہیں اور کوئی بھی طاقت پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان اس اٹوٹ رشتے کو توڑ نہیں سکتی۔کشمیری عوام کشمیر پاکستان کی طرف سے کشمیر کاز کی مسلسل سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت پر پاکستان کء شکرگزار ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کشمیر کی حمایت کشمیریوں کے لیے حوصلہ افزائی اور اُمید کا باعث رہی ہے۔ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان تحریک آزادی کشمیر کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے پاکستان کی حکومت اور عوام کو یوم آزادی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے اور کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ پائیدار تعلقات کا اعادہ کیا ہے۔حریت کانفرنس نے ایک بیان میں زور دیا ہے کہ بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کشمیر کے مسئلے کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا اور کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ مودی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں نے ان خدشات کو مزید اجاگر کیا ہے جنہوں نے دو قومی نظریہ کو جنم دیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button