مقبوضہ جموں و کشمیر : عالمی یوم خواندگی پرکشمیری طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا
اسلام آباد:دنیا بھر میں آج 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی منایا جا رہا ہے، تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، سیاسی تنازع اور تعلیم تک رسائی کا باہمی تعلق بدستور شدید تشویش کا باعث ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج جب دنیا بھر میں عالمی یوم خواندگی منایا جارہاہے تاہم مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حق تسلیم کی جانے والی تعلیم،لاکھوں کی تعداد میں تعینات قابض فوجیوںکی موجودگی اور کئی دہائیوں سے حل طلب مسئلہ کشمیر کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری طلبہ اس وقت اپنی تعلیم پر کس طرح توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جب وہ مسلسل محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں، سڑکوں اور تعلیمی اداروں کے قریب بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی، فوجی کیمپوں اور نگرانی کے آلات و بھاری ہتھیاروں سے لیس فوکہ گاڑیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مسلح قابض فوجیوں اور سکیورٹی تنصیبات کی مسلسل موجودگی طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کے لیے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرتی ہے، جس سے محفوظ اور مستحکم تعلیمی ماحول کی تشکیل متاثر ہوتی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور علاقائی رپورٹس نے متعدد مرتبہ نشاندہی کی ہے کہ بڑی تعداد میں قابض فوجیوں کی موجودگی، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں سے معمولات زندگی اور شہری آبادی کی ذہنی صحت بری طرح متاثرہو رہی ہے جبکہ طلبہ بے چینی، خوف اور نفسیاتی دبائو کا خاص طور پر شکار ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی یوم خواندگی کے موقع پر تعلیمی اداروں کے قریب بھارتی فورسز اور سکیورٹی تنصیبات کی موجودگی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ایک سنگین حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں تعلیم کے حق کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں چیلنجز کا سامنا ہے۔متعدد علمی مطالعات اور صحت عامہ سے متعلق جائزوں میں طویل عرصے سے جاری تنازع، فوجیوں کی موجودگی، چیک پوسٹوں اور نگرانی کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات واضح کیاگیاہے ، جس سے ان کی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے اور موثر انداز میں سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق خوف کی فضا:تعلیمی اداروں کے قریب سکیورٹی تنصیبات اور بار بار تلاشی کی کاروائیوں کے باعث طلبہ خود کو مسلسل نگرانی اور عدم تحفظ کا شکار محسوس کرتے ہیں۔چیک پوسٹیں، سکیورٹی پروٹوکول اور تعلیمی اداروں کے گرد اچانک پابندیاں طلبہ کی حاضری میں رکاوٹ، تاخیر اور روزمرہ ذہنی دبائو کا باعث بن سکتی ہیں۔حل طلب دیرینہ تنازع اوربھارت کے غیر قانونی قبضے سے پیدا ہونے والی طویل المدتی غیر یقینی صورتحال طلبہ میں بے چینی، صدمے اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جو ان کی تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 کو بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کیے جانے کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والے سینکڑوں اسکولوں پر پابندی عائد کی جس سے ہزاروں طلبہ تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان اقدامات نے پہلے ہی طویل تنازع سے متاثرہ کشمیری طلبہ کے مستقبل سے متعلق خدشات مزید بڑھادیے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی انتظامیہ نے رواں سال اپریل کے آخر میں ضلع شوپیاںکے علاقے امام صاحب میں معروف دینی مدرسے اور اسکول دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو باضابطہ طور پر سیل کرکے اس پر پابندی عائد کر دی۔رپورٹ میں اسلامیہ ماڈل اسکول کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر 2022سے بی جے پی حکومت کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے بند ہے ۔راواں ماہ 3ستمبر کو اس کی دو منزلہ عمارتوں، چھ تجارتی دکانوں اور دو کنال اراضی کو ضبط کیا گیا۔رپورٹ میں مقبوضہ علاقے میں مقابلے کے امتحانات سے متعلق تنازعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال24اگست کو جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈکی جانب سے جونیئر انجینئر (الیکٹریکل)کا امتحان منعقد کیے جانے کے بعد امیدواروں اور سیاسی رہنمائوں نے بدانتظامی اور ممکنہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد صارفین نے ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں مبینہ طور پر مقابلے کے امتحانات کے امیدواروں کو ایک دوسرے کے ساتھ سوالات حل کرتے اور بعض صورتوں میں موبائل فون استعمال کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔طلبہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امتحان شروع ہونے سے قبل سوالیہ پرچے سوشل میڈیا پر دستیاب تھے۔رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025کے دوران مقبوضہ علاقے میں متعدد امتحانات مبینہ پیپر لیک، بھرتیوں میں بے ضابطگیوں، اسکینڈلز یا طویل قانونی تنازعات کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے، جس سے ملازمت کے ہزاروں امیدواروں میں مایوسی پھیلی۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پر کہاہے کہ 2022میں بھی بی جے پی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے دور میں جے کے ایس ایس بی کے پرچے لیک ہوئے تھے۔انہوں نے واضح کیاکہ اس عرصے کے دوران سامنے آنے والے تنازعات کے باعث سب انسپکٹرز، جونیئر انجینئرز اور فنانس اکائونٹس اسسٹنٹس سمیت متعدد آسامیوں کے لیے بھرتی کے امتحانات منسوخ کئے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق ان تنازعات سے طلبہ اور نوجوانوں کے امتحانات ا ور بھرتی کے نظام پر اعتماد مزید کمزورہورہاہے جبکہ مقبوضہ علاقے میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اسٹوڈنٹ لیڈر ثاقب جان نے کہا ہے کہ ایسے اسکینڈلز نوجوانوں کی مایوسی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ پیپر لیگ ہونے اوربے ضابطگیوں کے واقعات بار بار سامنے آتے ہیں، مگر ذمہ داروں کاکوئی احتساب نہیں ہوتا اور طلبہ اس صورتحال کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا سرکاری اسکولوں کا نظام بنیادی سہولتوں کی کمی اور تدریسی عملے کی قلت کے دوہرے بحران سے دوچار ہے۔رپورٹ کے مطابق 1,300سے 1,500سے زائد اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر موجود ہے اور ان اسکولوں میں مجموعی طور پر 31ہزارسے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔رپورٹ میں دیگر مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2008سے 2010تک منظور کیے گئے متعدد اسکولوں کی عمارتیں لاگت میں اضافے اور فنڈز کی کمی کے باعث مبینہ طور پر اب تک نامکمل ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ پرانی یا خستہ حال عمارتوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔متعدد دیہی سرکاری اسکولوں میں مبینہ طور پر فعال لیبارٹریوں، کتب خانوں، مناسب ڈیسکوں، صاف بیت الخلا، بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران قابض انتظامیہ نے 4ہزار300 سے زائد سرکاری اسکول بند یا ضم کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حل طلب مسئلہ کشمیر اور اس کے باعث بے چینی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی تعلیم کو شدید متاثر کیا ہے۔ طویل تنازع،قابض فوجیوں کی موجودگی، عدم تحفظ اور انتظامی پابندیوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں طلبہ کو بلا تعطل اور معیاری تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کو تعلیم سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے ۔ رپورٹ نے مسئلہ کشمیر کو متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ تنازعے کا پائیدار سیاسی حل ہی خطے میں امن، استحکام اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر تعلیمی مواقع کو یقینی بنانے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔






