لداخ : ” ایل اے بی، کے ڈی اے “ کا 19ستمبر سے بڑے احتجاج کا اعلان
لیہہ:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے گرپوں نے بھارتی حکومت کو اپنے مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے ۔ گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ 19ستمبر سے ایک نئی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
یہ نئی پیش رفت بھارتی وزارت داخلہ اور لیہہ ایپکس باڈی ( ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنٹس ( کے ڈی اے) کے درمیاں چند روز قبل ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان گروپوںنے خبر دار کیا ہے کہ بات چیت بے اثر ثابت ہوئی ہے لہذا اگر علاقے میں کسی منتخب ادارے( اسمبلی) کے قیام سے قبل کسی قسم کی کوئی تنظیم نو کی گئی تو وہ احتجاج شروع کر دیں گے۔ ایل اے بی اور کے ڈی اے کے رہنماﺅں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ہمیں دوبارہ مارچ اور احتجاج کی طرف نہیں جانا پڑے گا لیکن ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ لداخ خطے کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانچنگ نے بھی ایل اے بی اور کے ڈی اے کے رہنماﺅں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں ایک ہفتے کے اندر کوئی یقین دہانی نہیں ملی تو ہم 19ستمبر سے مارچ اور احتجاج دوبارہ شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے اگست 2019میں لداخ کو جموں وکشمیر سے الگ کر کے اسے بھی یونین ٹیریٹری بنالیاہے۔ خطے کے لوگ علاقے کیلئے چھے شیڈول کے نفاذ، ایک علیحدہ اسمبلی کے قیام او ر دیگر مطالبات کر رہے ہیں لیکن بھارتی حکومت مطالبات ماننے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔







