بھارتی سول سوسائٹی تنظیموں کا برکس سے اسرائیل کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ
نئی دہلی:بھارت میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے برکس کے رہنماوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں جن میں پابندیاں عائد کرنا، غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو ممکن بنانے والی فوجی و اقتصادی امداد کا خاتمہ شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہانِ مملکت و حکومت کے نام ایک خط میں” انڈو فلسطین سالیڈیرٹی نیٹ ورک“ اور سول سوسائٹی کے دیگر نمائندوں نے غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور اسرائیل کو حاصل استثنیٰ کے خلاف اجتماعی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے برکس سے مطالبہ کیاکہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری تک اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے ، پابندیوں کے نفاذ، اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور شہریوں پر حملوں کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے۔ انہوں نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں۔خط میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے فوجی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ان تعلقات نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم میں نئی دہلی کو شریک بنا دیا ہے۔ خط میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ برکس کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی خارجہ پالیسی کو دوبارہ ایک آزادانہ سمت پر لے جائے جو عالمی امن اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے عزم پر مبنی ہو۔سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے سے بھارت کی ہچکچاہٹ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مخالف کرنے سے نئی دہلی کے گریز کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی ہے کہ ایسا کرنے سے بین الاقوامی سطح پر اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز ہو سکتی ہے، جن میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، من مانی گرفتاریاں اور سیاسی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔








