World

جنیوا میں عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی طر ف مبذول

جنیوا: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے گروپوں پر مشتمل ایک اعلی سطح کے وفد نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اورکشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کی طرف مبذول کرائی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وفد نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ کے خلاف ایک جامع فردِ جرم پیش کیا اور کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حقوق پر اثر انداز ہونے والے کثیر جہتی بحران کی نشاندہی کی۔وفد نے کونسل کو شہری آزادیوں پر عائدسخت پابندیوںکے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ اظہار رائے کی آزادی کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے۔ وفد نے علاقے میں جاری ڈیجیٹل محاصرے اور سخت نگرانی کا حوالہ دیاجس کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا اور کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو ہراساںکرنا ہے۔
کشمیری وفد نے قابض حکام کی طر ف سے زمینوں پر قبضے کے تشویشناک رجحان اور خطے میں آبادیاتی تبدیلیوںکے لیے کی جانے والی دانستہ کوششوں کی طرف توجہ دلائی جو مقامی آبادی کی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وفد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کے مذہبی حقوق پر منظم حملوںکو اجاگرکیا۔وفد نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوںکا حوالہ دیاجن میںمنظم تشدد ،من مانی نظربندیاں،سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے غیر قانونی گرفتاریاں،جبری گمشدگیاں،جنسی تشددکو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شامل ہیں۔ وفدنے کہاکہ کتابوں پر پابندی اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے ذریعے نوجوان نسل کے تاریخی اور سیاسی شعور کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔وفد نے کہاکہ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی وقار کی منظم تباہی پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی جہاں قابض انتظامیہ ایک پوری قوم کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وفد نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ محض لفظی بیان بازی سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کرے اور ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن مقرر کرے تاکہ مجرموں کا بین الاقوامی قانون کے تحت احتساب کیا جا سکے۔ وفد میں ممتاز وکلاء اور ماہرین شامل تھے جن میں ورلڈ مسلم کانگریس کے رکن ڈاکٹر راجہ سجاد،کمیونٹی ایڈووکیسی سینٹرکی رکن ڈاکٹر شگفتہ اشرف،انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کی رکن مہرالنساء رحمن اورکمیشن آن ہیلتھ اینڈ ہیومن رائٹس پروموٹرز کی رکن ماریہ اقبال ترانہ شامل تھیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button