مقبوضہ جموں وکشمیر: اسمبلی اجلاس کے باعث سرینگر کے مختلف علاقوں میں پابندیاں مزید سخت
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے باعث سرینگر کے مختلف علاقوں میں پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
بھارتی فورسز نے 21ستمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس سے قبل سرینگر میں قانون ساز اسمبلی اور سول سیکرٹریٹ کے اردگرد پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے سیشن کے دوران سول سیکرٹریٹ کے اندر اور ارد گرد کے علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت اور پارکنگ کو منظم کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ سول سیکرٹریٹ اور قانون ساز اسمبلی کے ملازمین بشمول سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی نجی گاڑیوں کو سیکرٹریٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔وزیراعلی، نائب وزیراعلی، وزرائ، وزیراعلی کے مشیر، اسپیکر اور ارکان اسمبلی کی گاڑیاں اسمبلی کمپلیکس میں مخصوص مقامات پر پارک کی جائیں گی۔میڈیاکے نمائندوں کو بھی سکیورٹی جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اسمبلی اجلاس 21سے 30ستمبر تک جاری رہے گا۔
دریں اثناء انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون سوجیت کمار نے کپواڑہ اور ہندواڑہ میں جاری محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔






