لداخی ستمبر 2025کو بھارتی فائرنگ کے متاثرین کی یاد میں مارچ کریں گے

لہہ: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے میں گزشتہ سال بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے چار شہریوں کی ہلاکت کے ایک سال بعد مقتول نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 20کلومیٹر طویل مارچ اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ ایپکس باڈی (LAB)اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA)نے جو خطے کو ریاستی درجہ دلانے اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرانے کے لیے تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، 24ستمبر 2025کو لہہ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی یاد میں مارچ کی کال دی ہے۔منتظمین نے ابتدا میں کرگل سے لہہ تک ایک ہفتہ طویل پیدل مارچ کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم شدید موسمی حالات اور رات کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے پیش نظر شیڈول میں تبدیلی کی گئی۔ماحولیاتی کارکن اور لہہ ایپکس باڈی کے رکن سونم وانگچک نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات کے باعث پیدل مارچ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ موجودہ موسمی حالات کے باعث ہم اسے 23ستمبر کو 20کلومیٹر مارچ اور 24ستمبر کو یوم شہدا کی تقریب میں تبدیل کر رہے ہیں۔گزشتہ سال 24 ستمبر کو خطے کی ریاستی حیثیت، اراضی کے حقوق اور آئینی ضمانتوں کے مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کے دوران بھارتی فوجیوں نے بلااشتعال فائرنگ کرکے چار نوجوان کو ہلاک اور تقریبا 90 دیگرکو زخمی کردیاتھا۔اس کے بعد معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کوکالے قانون نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا، جبکہ خطے میں کئی ماہ تک سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔24 ستمبر کو لہہ اور کرگل میں یوم شہدا منایا جائے گا ، اس موقع پردعائیہ مجالس، شمع روشن کرنے کی تقریبات، ایک منٹ کی خاموشی اور پھولوں کی چادریں چڑھانے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔یادگاری تقریبات کے علاوہ اس دن کو انصاف کے حصول کی جدوجہد کے طور پر بھی منایاجائے گا۔لہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے مظاہرین پر فائرنگ کی آزادانہ عدالتی تحقیقات، 2025کی تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے مقامی نوجوانوں کے خلاف درج تمام فوجداری مقدمات مکمل طور پر واپس لینے، ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے تک معاوضے اور شدید زخمیوں کی امداد سمیت اپنے مطالبات دہرائے ہیں۔








