بھارت

کانگریس لداخ کے لیے آئینی حقوق کے مطالبے کی پرزور حمایت کرتی ہے، کھڑگے

ستمبر 2025 میں لیہہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی : کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آئینی حقوق کی فراہمی کے انکے دیرنہ مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال لیہہ میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تاکہ انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 24 ستمبر 2025 کو لیہہ میں لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات کے مطالبات پر ہونے والے مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک سال قبل لداخ کے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے جاری تحریک کے دوران لیہہ میں چار نوجوان ہلاک ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا اس المناک واقعے کی عدالتی تحقیقات کے ذریعے مکمل سچائی سامنے آنی چاہیے، احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور بغیر کسی خوف یا رعایت کے انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ لداخ کے عوام اپنے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے کافی طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔
کانگریس سربراہ نے کہا کہ انکی پارٹی لداخ کی زمین، روزگار، نازک ماحول، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے لیے بامقصد آئینی تحفظات (بشمول چھٹے شیڈول) کے مطالبے پر مضبوطی سے وہاں کے لوگوں کیساتھ کھڑی ہے۔
کھڑگے نے مزید کہا کہ جمہوریت اور نمائندہ اداروں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے اور لداخ کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں مو¿ثر آواز حاصل ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے لداخ کو اس سے الگ کر کے اسے بھی براہ نئی دلی کے زیر انتظام خطہ بنا لیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button