مقبوضہ جموں و کشمیر میں ووکیشنل ٹرینرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ووکیشنل ٹرینرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سرینگر میں اپنا تین روزہ احتجاج جاری رکھا جس میں ملازمت کے تحفظ، جامع سروس پالیسی کے نفاذ اور روزگار کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج میں ووکیشنل ٹرینرز نے اپنی ملازمتوں کے تسلسل اور تحفظ، زیر التوا تنخواہوں اور سروس سے متعلق مسائل کے حل اور موجودہ ووکیشنل ٹریننگ پارٹنر (VTP) نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ مظاہریننے کہا کہ وہ کئی برسوں سے سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
احتجاج کرنے والے ٹرینرز نے ملازمتوں کو باقاعدہ کرنے کے لیے واضح اور جامع پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ شفاف اور مقررہ مدت کے اندر ان کی شکایات کا ازالہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک طلباءکو عملی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے والے افراد کو ملازمت کا محفوظ سروس فریم ورک حاصل نہیں ہوگا، تب تک ووکیشنل تعلیم کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ٹرینرز نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2016 میں شروع کیے گئے ووکیشنل ایجوکیشن پروگرام نے طلباءکو عملی اور روزگار پر مبنی مہارتیں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی کئی سالہ خدمات کو واضح اور متعین روزگار پالیسی اور ملازمت کے تحفظ کے ذریعے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
دریں اثناءپی ڈی پی کے ترجمان اور حلقہ انتخاب چھانہ پورہ کے انچارج محمد اقبال ترمبو اور پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور حلقہ انتخاب حبہ کدل کے انچارج عارف لائےگرو نے احتجاج میں شرکت کی اور ٹرینرز سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوںنے کہا کہ تقریباً ایک دہائی سے سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے ووکیشنل ٹرینرز کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں نہیں رکھا جا سکتا، انہوںنے کہا کہ ان کی کئی سالہ خدمات کو تسلیم کیاجانا چاہیے اورباعزت اور ایک واضح روزگار فریم ورک فراہم کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماو¿ں نے ٹرینرز کی شکایات کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔







