بھارت کا دستوری ، جمہوری ڈھانچہ خطرے میں ہے، دشینت دوے
لاکھوں افراد کو حق رائے دہی سے محروم کیا جارہا ہے، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
نئی دلی : سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ دشینت دوے نے چیف الیکشن کمشنر کی کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر ووٹر فہرستوں کی خصوصی جانچ (ایس آئی آر)کے عمل کے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے کئی ارکان نے” ایس آئی آر” کے خلاف آواز اٹھائی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کچھ غلط کررہے ہیں، لیکن کچھ نہیں کیا گیا ، سپریم کورٹ نے بھی ایس آئی آر کو برقرار رکھاہے جس کے نتیجے میں بہاراورمغربی بنگال میںلاکھوں حق رائے دھندگان رائے دہی سے محروم کیے گئے۔
انہوںنے کہا کہ بھارت کا دستوری ، جمہوری ڈھانچہ خطرے میں ہے جس کی وجہ پیشہ وارانہ سیاستدانوں کا غلبہ ، عدلیہ میں منظم بدعنوانی اور انتظامی تجاوزات ہیں۔دشینت دوے نے کہاکہ ایس آئی آر کی آڑ میں لاکھوں افراد بشمول خود انہیں اورانکی اہلیہ کو نوٹسزجاری کیے گئے ہیں جس سے حق رائے دہی خطرے میں پڑ گیا ہے اورعملاًکروڑوں افراد حق رائے دہی سے محروم ہوسکتے ہیں ۔
انہوںنے ججوں میں سماجی تنوع کے فقدان کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کی تقرریوں میںایک بھی خاتون جج کو شامل نہیں کیا گیا۔





