بھارت چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کی بات کر رہا ہے، جبکہ تیجس تاخیر اور تکنیکی مسائل کا شکار
چوتھی نسل کے طیارے کا منصوبہ مشکلات سے دوچار،مستقبل کے لڑاکا طیارے پر سوالات
نئی دہلی : بھارت نے اپنی فضائیہ کے لیے چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ اس کے تیجس پروگرام کو طیاروں کی فراہمی میں مسلسل تاخیر، تکنیکی مشکلات اور تیاری کی رفتار سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک میڈیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانچویں نسل کے طیاروں سے آگے بڑھتے ہوئے چھٹی نسل کی لڑاکا طیارہ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم صرف پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر ہی نہیں بلکہ چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں پر بھی کام کر رہے ہیں۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت پانچویں نسل کے اپنے مقامی ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ (AMCA) کی تیاری کا ابھی آغاز ہی کر رہا ہے جس کے تقریباً ایک دہائی میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ نئی دہلی چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے برطانیہ، جاپان اور اٹلی کے اتحاد اور فرانس کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔
بھارت کے موجودہ رافیل طیاروں کو عمومی طور پر 4.5 نسل کا طیارہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ تیجس چوتھی نسل کا ہلکا لڑاکا طیارہ ہے۔ دوسری جانب تیجس Mk1A پروگرام ابھی تک مکمل طور پر فعال سروس میں شامل نہیں ہو سکا۔ بھارتی فضائیہ نے رواں ماہ کہا تھا کہ ان طیاروں میں انجن نصب کیے جا چکے ہیں اور آزمائش جاری ہے، جبکہ آئندہ ایک یا دو ماہ میں انہیں فضائیہ میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم ریڈار اور ہتھیاروں کے انضمام سے متعلق مسائل اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اس پروگرام کو بار بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کی جانب سے 2021 میں دیے گئے 83 تیجس Mk1A طیاروں کے پہلے آرڈر کی ستمبر تک فراہمی نہیں ہو سکی، حالانکہ ابتدائی طور پر ان کی ترسیل 2024 میں شروع ہونی تھی۔ بھارتی فضائیہ اس وقت اپنی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں کم لڑاکا اسکواڈرنز کے ساتھ کام کر رہی ہے جس سے مقامی لڑاکا طیاروں کے پروگرام پر دباو¿ مزید بڑھ گیا ہے۔
تیجس طیاروں کے بیڑے کو رواں سال کے آغاز میں عارضی طور پر گراو¿نڈ بھی کیا گیا تھا، جب فروری میں رن وے پر پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر تکنیکی جانچ شروع کی گئی۔ بھارتی فضائیہ نے بعد ازاں اپریل میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد بیڑے کو دوبارہ پروازوں کے لیے کلیئر کر دیا۔ بھارتی فضائیہ اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کی مشترکہ تحقیقات میں اس حادثے کی وجہ ایک سافٹ ویئر خرابی کو قرار دیا گیا۔
اس پس منظر میں دفاعی ماہرین نے بھارت کی مستقبل کی چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کی جانب پیش قدمی کے دعوے کی ساکھ اور وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ ایئر مارشل ناگیش کپور نے سوال اٹھایا کہ اگر تیجس Mk2 کی بڑی تعداد میں شمولیت 2030 کی دہائی میں ہی ممکن ہوگی تو اس کی عملی اہمیت کیا ہوگی، جبکہ یہ پروگرام مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
چوتھی نسل کے لڑاکا طیارے سے متعلق تکنیکی اور پیداواری مشکلات اور نئی دہلی کی جانب سے چھٹی نسل کی صلاحیت حاصل کرنے کے دعووں کے درمیان اس تضاد نے دفاعی مبصرین کی طرف سے تنقید کو جنم دیا ہے۔تاہم راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت آئندہ 10، 20 اور 25 برسوں میں جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر طیاروں، ڈرون انجنوں اور ایرو اسپیس پروپلشن ٹیکنالوجی کی تیاری کو بھارت کے طویل مدتی دفاعی منصوبوں کا حصہ قرار دیا۔








