شبیر شاہ کی نظربندی کو طول دینے کی کوشش، این آئی اے کے نوٹس پر انہیں نئی دہلی منتقل کر دیا گیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے صدر شبیر احمد شاہ کو آج بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس پر جموں کی کوٹ بھلوال جیل سے نئی دہلی منتقل کر دیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے نے آج شبیر احمد شاہ کو نئی دہلی میں اپنی عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی، جس کے بعد انہیں کوٹ بھلوال جیل سے بھارتی دارالحکومت منتقل کر دیا گیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت پر ہوئی جب شبیر شاہ کو آج ایک پرانے جھوٹے مقدمے میں رہا کیے جانے کی توقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کی جانب سے انہیںنئی دہلی طلب کیے جانے کے بعد خدشہ ہے کہ انہیں دوبارہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا جا ئے گا۔
شبیراحمد شاہ مختلف جھوٹے مقدمات میں کئی برسوں سے نظربند ہیں۔ مارچ 2026 میں بھارتی سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں طویل تاخیر کے بعد 2017 کے ایک جھوٹے مقدمے میں انہیں ضمانت دے دی تھی، تاہم دیگر جھوٹے مقدمات کے باعث وہ بدستور نظربند ہیں۔
شبیر شاہ کو پہلی مرتبہ 1968 میں نوعمری کے دوران کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں سیاسی نظریات کی بنیاد پر بغیر کسی سزا کے طویل نظربندی کے باعث ”ضمیر کا قیدی“ قرار دیا تھا۔ان کے حامیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق شبیر شاہ نے مجموعی طور پر اپنی زندگی کے 32 سے 35 یا اس سے زائد سال جیلوں میں گزارے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ”کشمیر کا نیلسن منڈیلا“ بھی کہاجاتا ہے۔
شبیر شاہ کو 2017 میں بھارتی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے ایک جھوٹے فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ مقدمے کی طوالت کے باعث ان کی نظربندی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔سینئر حریت رہنما کی طویل نظربندی پر ان کی جماعت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے متعدد بار کہا ہے کہ یکے بعد دیگرے مقدمات کے اندراج اور قانونی کارروائیوں کو ان کی نظربندی کوطول دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔







