مودی حکومت اپنے اقتدارکو طول دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے : ماہرین
نئی دہلی : مودی حکومت میں سرکاری اداروں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد کھل کر سامنے آگیاہے اور وزیرِ تعلیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زورپکڑ رہاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی اخبار” ہندوستان ٹائمز “کاکہنا ہے کہ نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفی ٰنہ دینے پر 2 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ۔ لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے مطالبے پر طلباءکی احتجاجی کال کی حمایت کردی ہے۔ سونم وانگچک کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابی عمل ملک میں جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انتخابی امور اور قانون کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی مفاد پرستانہ پالیسیوں نے سرکاری اداروں کی ساکھ اور کارکردگی کو شدید متاثر کیاہے۔ ان کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے اقتدارکو طول دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے جس نے مسلمانوں اوردلتوں سمیت اقلیتی برادری کے کروڑوں ووٹروں کو مختلف بہانوں سے انتخابی فہرستوں سے خارج کردیا اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ماہرین نے کہاکہ اس عمل سے بھارت میں پورا جمہوری عمل مشکوک بن گیا ہے اورلوگوں کا جمہوری اداروں پرسے اعتماد اٹھ گیا ہے۔








