کرناٹک : ووٹر فہرستوں سے مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے 4 ہزار سے زائد درخواستیں دائر
بنگلورو:ریاست کرناٹک میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی’ (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران فارم 7 کی 4 ہزار سے زائد درخواستیں دائر کی گئی ہیں،جن میںبنیادی طور پر مسلمان ووٹروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
فارم 7کسی شخص کے غیر حاضر ہونے یا مستقل طور پر منتقل ہو جانے کی بنیاد پر اس کا نام فہرست میں شامل کرنے پر اعتراض کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ اسکا استعمال مسلمان ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر خارج کرانے کے لیے غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے۔
وجے پورہ کے بابالیشور اسمبلی حلقے میں 22 ستمبر کو 1,373 درخواستیں موصول ہوئیں؛ ان میں سے 1,363 درخواستیں صرف دس ووٹروں نے دائر کیں اور ان میں سے زیادہ تر کا ہدف اپنے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کے مسلمان ووٹر تھے۔ ایک ووٹر، ہچاپا گانیگر نے 22 اور 23 ستمبر کے درمیان 493 درخواستیں دائر کیں، جبکہ ایک اور شخص، گووندا راج منڈور نے 23 ستمبر کو 33 اسٹیشنوں پر 413 درخواستیں جمع کرائیں۔
اسی طرح کا رجحان بیدر کے بھالکی حلقے میں بھی دیکھا گیا، جہاں 23 ستمبر کو کم از کم 30 افراد نے 1,700 سے زائد نام (جن میں زیادہ تر مسلمان تھے) خارج کرانے کی درخواست کی۔
ایک شخص سنتوش نے اس سے ایک دن قبل 54 درخواستیں جمع کرانے کے بعد اگلے ہی دن 120 درخواستیں دائر کیں۔۔ بسوا کلیان میں، ایک ووٹر نے ایک ہی پولنگ اسٹیشن پر مسلمان ووٹروں کے خلاف 37 میں سے 32 درخواستیں دائر کیں، جبکہ بیل تھنگاڈی میں ایک ہی شخص نے اسی طرح کی بنیادوں پر 21 درخواستیں جمع کرائیں۔







