پاکستان کی بھارت میں تاریخی شاہی مسجد کے انہدام کی کوششوں کی شدیدمذمت
اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں تاریخی شاہی مسجد کے انہدام کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارت میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہتاریخی شاہی مسجد کے انہدام کی کوششوں کی سخت مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا نوٹس لے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے ابہام پیدا کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اپنی تمام شقوں سمیت مکمل طور پر موجود ہے اور عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی اعتراضات مسترد کر دیے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگست میں بھی عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی دعوئوں کو مسترد کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی برادری کا ذمہ دار رکن ہے اور تمام قابل اطلاق پابندیوں کے نظام کی پاسداری کرتا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق پابندیوں پر عمل کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔
بھارتی کوآرڈینیٹر برائے شنگھائی تعاون تنظیم کے دورہ پاکستان سے متعلق سجاد حیدر خان نے کہا کہ طویل عرصے بعد بھارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی عہدیدار نے لاہور کو آئندہ ایک سال کے لیے ایس سی او کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیاہے۔ انہوں نے بھارتی عہدیدار کی پاکستان آمد کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں آئندہ ایک سال کے دوران ہونے والی تقریبات میں خطے کے رکن ممالک شرکت کرتے رہیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کے صوبے نورستان میں پاکستانی مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان 36 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ ٹھکانہ ہے۔






