شرجیل امام کیس بھارت میں مسلم سیاسی فکر کے لئے سکڑتی ہوئی گنجائش کو بے نقاب کرتا ہے: بھارتی صحافی
مسلمان دانشوروں کی بات سننے کے بجائے ان پر مختلف لیبلز چسپاں کئے جاتے ہیں: اسداشرف
نئی دہلی:بھارتی صحافی اسد اشرف نے بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی اور فکری سوچ کو سادہ نظریاتی لیبلز تک محدود کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے جیل میں قید اسکالر اور کارکن شرجیل امام کو اس کی ایک نمایاں مثال قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسد اشرف نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ وہ شرجیل امام کو ایک دوست اور صحافی کی حیثیت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جانتے ہیں اور اس دوران انہوں نے تاریخ، سیاست، آئینی حقوق اور بھارت میں مسلمانوں کی حیثیت سے متعلق سوالات پر امام کی مسلسل فکری کاوشوں کا مشاہدہ کیا ہے۔اسد اشرف نے کہا کہ شرجیل امام مسلسل اس موقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم کی تاریخ نویسی میں ایک بنیادی مسئلہ موجود ہے اور 1947 سے قبل مسلم فکر کو تشکیل دینے والے سیاسی سوالات پر ازسرنو غور اور تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اسد اشرف کے مطابق شرجیل امام اکثر عصر حاضر کے مباحث کو تاریخی شخصیات کے خیالات سے جوڑتے تھے، تاہم وہ ضروری نہیں کہ ان شخصیات کو قابلِ تقلید سمجھ کر پیش کرتے ہوں بلکہ انہیں تقسیم سے قبل بھارت میں مسلم سیاسی فکر کے ارتقا میں اہم شخصیات کے طور پر دیکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ شرجیل امام نے صدارتی احکامات، سیاسی نمائندگی اور مسلمانوں کے لیے ریزرویشن سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور اس بات پر زور دیا کہ بھارتی مسلمانوں کے جمہوری حقوق اور سیاسی خدشات کو ملک کے آئینی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔اسد اشرف نے لکھاجیسا کہ میں ان کی بات کو سمجھتا ہوں، ان کا موقف جمہوری نظام کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اس بات پر اصرار ہے کہ مسلمانوں کو اسی نظام کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے، اس کے آئینی امکانات کو سمجھنا چاہیے اور اپنے سیاسی سوالات کو اسی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسداشرف نے شرجیل امام کے متنوع خیالات کو محض اسلام پسندی کے ایک لیبل تک محدود کرنے کے رجحان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی درجہ بندی پیش کیے جانے والے سیاسی اور تاریخی خیالات پر سنجیدہ غور و فکر کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف شرجیل امام تک محدود نہیں بلکہ بھارت میں مسلم فکری اور سیاسی فکر کو دیکھنے کے عمومی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک مسلمان جو تاریخ، نمائندگی، آئینی حقوق یا برادری کے سیاسی مستقبل سے متعلق سوالات اٹھاتا ہے، اسے فوری طور پر قابل قبول یا پھر اسلام پسند اور مشکوک قراردیاجاتا۔اشرف نے کہا کہ یہ طرز عمل اختلافِ رائے، تاریخی تحقیق، آئینی دلائل اور سیاسی پیچیدگی کے لیے بہت کم گنجائش چھوڑتا ہے، خصوصا جب مسلمان اپنے سیاسی حقوق اور نمائندگی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شرجیل امام کا کیس ایک بڑا سوال ہے کہ آیا بھارتی معاشرہ مسلمانوں کو متنوع اور بعض اوقات ناگوار محسوس ہونے والے خیالات رکھنے والے سیاسی مفکرین کے طور پر دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہے یا انہیں پہلے سے طے شدہ خانوں میں محدود کرنا چاہتا ہے۔اشرف نے کہاکہ نظریاتی سطح پر کسی کی کردار کشی کیے بغیر فکری اختلاف ممکن ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ فکری گنجائش ہے جسے دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔







