بیانات

بیوروکریسی کی مداخلت منتخب حکومت کی کارکردگی میں رکاوٹ بن رہی ہے: تنویر صادق

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںنیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن قانون ساز اسمبلی تنویر صادق نے کہا ہے کہ بیوروکریسی کی مداخلت مقبوضہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کی موثر کارکردگی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تنویر صادق نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بعض بیوروکریٹس باہر سے ہدایات حاصل کر رہے ہیں اور منتخب حکومت کے لیے دانستہ رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ہم سب جانتے ہیں کہ بیوروکریسی کو ہدایات کہاں سے مل رہی ہیں۔ منتخب حکومت پر بیوروکریسی کا اس طرح کنٹرول جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت کے لیے ایک انتہائی خراب مثال قائم کرے گا۔ تنویر صادق نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت جو بھی اقدامات کر رہی ہے، ان کے راستے میں دانستہ رکاوٹیں پیدا نہیں کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مقصد منتخب حکومت کے اختیارات کو مضبوط بنانا اور اسے موثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ ہندوتوا بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سیاسی اتحاد کی اپیل اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی جموں و کشمیر سے متعلق مسائل کو نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر اٹھانے کی تجویز پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ اگر سیاسی اتحاد کا مقصد اگست 2019 کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کو واپس لینا ہے تو اس حوالے سے پی ڈی پی کی موجودہ اپیل کے مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تنویر صادق نے کہا کہ محبوبہ مفتی خود بھی اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کر چکی ہیں اور جنتر منتر پر مجوزہ پروگرام کو انہوں نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button