مقبوضہ کشمیر :ہائی کورٹ کی طرف سے دو کشمیریوں کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم قرار
جموں:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائیکورٹ نے پلوامہ کے دو رہائشیوں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی نظربندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو انکی فوری رہائی کا حکم دیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یکم اکتوبر کو عابد مجید شیخ اور سمیع اللہ ڈار کی الگ الگ اپیلوں پر فیصلے سنائے۔عدالت نے اپنے فیصلوں میں اس بات کا اعادہ کیا کہ احتیاطی حراست کے غیر معمولی اختیار کا استعمال محض پرانے مقدمات اور مبہم خدشات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا اور حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کے طرزِ عمل اور مستقبل میں متوقع سرگرمی کے درمیان ایک معقول اور براہِ راست تعلق ثابت کریں۔
عدالت نے عابد مجید شیخ کے معاملے میں قرار دیا کہ 2016، 2018 اور 2020کے مقدمات، جن میں انہیں ضمانت مل چکی تھی ، مئی 2025 میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست سے کوئی براہِ راست تعلق قائم نہیں کرتے۔ عدالت نے کہا کہ ان کی رہائی کے بعد کسی نئی سرگرمی کا ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔
دوسرے مقدمے میں سمیع اللہ ڈار کی 2024کی پی ایس اے کے تحت حراست 2018میں درج دومقدمات کی بنیاد پر کی گئی تھی،جن میںاسے ضمانت مل چکی تھی اورقابض حکام نے نہ ضمانت منسوخ کرانے کی کوشش کی اور نہ ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت پیش کیا۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ سمیع اللہ ڈار کے خلاف حراستی وجوہات پولیس ڈوزیئر کی لفظ بہ لفظ نقل معلوم ہوتی ہیں جبکہ حراست کا اختیار استعمال کرنے سے قبل متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے آزادانہ غور و فکر ضروری ہے۔
عدالت نے دونوں حراستی احکامات منسوخ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر دونوں افراد اب بھی حراست میں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ فیصلوں میں واضح کیا گیا کہ پرانے واقعات، مبہم الزامات اور مسلسل لائیو لنک کی عدم موجودگی ذاتی آزادی سلب کرنے کے لیے درکار قانونی تحفظات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔





