بھارت

بھارت :سابق بیروکریٹس کا چیف الیکشن کمشنرکوچارج شیٹ اور مواخذے کا نوٹس

نئی دہلی: بھارت کے کم از کم 15 سابق بیروکریٹس اور کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کومواخذے کا نوٹس بھیجتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نوٹس میں جون 2025 سے شروع ہونےوالے ایس آئی آر کی وجہ سے ان پر لگنے والے سنگین الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔نوٹس پر دستخط کرنے والوں میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی، انٹلی جنس بیورو کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر یشوردھن آزاد اور سابق مرکزی سیکریٹری امیتابھ پانڈے شامل ہیں۔ کارکنوں میں انجلی بھاردواج، امرتا جوہری اور اویشی گھوش کے نام شامل ہیں۔
نوٹس میں کہاگیا ہے کہ ایس آئی آر مکمل ہونے تک بالغ آبادی اور ووٹروں کے درمیان فرق 15 کروڑ یا اس سے زیادہ ہو جائے گا، جو انسانی تاریخ میں ’غائب ووٹروں‘ کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔اس میں کہاگیاکہ گیانیش کمار عالمگیر حق رائے دہی کے بنیادی اصول کی شدید خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں۔گیانیش کمار کے نام لکھے گئے اس خط کو ’چارج شیٹ اور مواخذے کا نوٹس‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں حالیہ سات واقعات اور معاملوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں دستخط کنندگان کے مطابق ’ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی‘ تصور کیا جا سکتا ہے اور جن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 325(4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل خاطر خواہ بحث و مباحثہ کے بغیر انجام دیا گیا اور قواعد کے مطابق اس کارروائی کا ریکارڈ بھی درج نہیں کیا گیا۔حال ہی میں انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں نے اعتراض کیا تھا کہ کمیشن کے نام پر لیے گئے ایسے فیصلے، جنہیں کمیشن کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا، بنیادی طور پر آئینی اختیار کا غلط استعمال ہے۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ گیانیش کمار نے نئے ووٹروں کے رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں تبدیلی کی، حالانکہ یہ تبدیلی ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ تھی۔خط کے مطابق بعد میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پرانے فارم 6 کو بحال کیا جانا اس بات کا ’پختہ ثبوت‘ ہے کہ کی گئی تبدیلی غیر مجاز تھی۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان ووٹروں کو بھی غیر قانونی طور پر فارم 6 بھرنے کا مشورہ دیا جا رہا تھا جو پہلے ہی ووٹ ڈال چکے تھے۔
خط میں ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تنقید کی گئی ہے۔26 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ وہ اپنے ای سی آئی نیٹ پورٹل کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گا۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک اور ’اعتراف‘ کے مترادف ہے کہ اس نے ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جس کے ذریعے ’کروڑوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے ہٹا دیے گئے‘ اور اس عمل نے ان قانونی حدود کو ’نظرانداز‘ کیا جن کے اندر کمیشن کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔
خط میں کہا گیا ہے،’اب آپ ایسے کھیل میں ریفری نہیں رہ سکتے جس میں بڑے پیمانے پر یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ آپ کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘خط میں کہا گیا ہے،اس لیے ہم، بھارت کے لوگ آپ کو یہ مواخذے کا نوٹس دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے اقدامات آئین کے آرٹیکل 324(5) کے تناظر میں ثابت شدہ بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں، اور ہم چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے آپ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
دستخط کنندگان میں شامل سیاسی کارکن اور انتخابی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ آج سابق نوکرشاہوں، کارکنوں اور شہریوں کے ایک معزز وفد نے عوام کی جانب سے مواخذے کا نوٹس سونپا۔ پیغام واضح تھا؛ آئینی اختیار کے ساتھ آئینی جوابدہی بھی آتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button