بھارت

نئی دلی: پولیس کا سی جے پی کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار

مظاہرین کو دارلحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے 23ہزار فورسز اہلکار تعینات

نئی دہلی: دہلی پولیس نے کل 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران حکام نے بھارتی دارالحکومت میں سیکیورٹی کی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں ممکنہ طور پر میٹرو اسٹیشنوں کی بندش، ٹرینوں کی منسوخی اور تقریباً 23 ہزار فورسز اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) اور طلبہ کی کئی تنظیموں کو مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
نئی دہلی ضلع میں ‘بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا’ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جن کے ذریعے مخصوص حالات میں اجتماعات، جلوسوں اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پولیس نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہ کی ہے۔
پولیس نے ‘دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو خط لکھا ہے جس میں 9 اکتوبر (جمعہ) کی رات سے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے پر غور کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ حساس مقامات کی جانب بے قابو ہجوم کی نقل و حرکت کا خدشہ بتایا گیا ہے۔
دریں اثنا انڈین ریلویز نے احتجاج کے پیشِ نظر ہفتے کے روز 10 گھنٹے کے لیے نئی دہلی اور حضرت نظام الدین اسٹیشنوں پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی ( سی جے پی ) کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے ‘ایکس’ پر پوسٹ کیانریندر مودی نے ایمرجنسی کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔’انڈین ایکسپریس’ کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت نے 8 سے 12 اکتوبر تک دہلی پولیس کی مدد کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز’ کی 221 کمپنیاں تعینات کی ہیں، جن میں تقریباً 23ہزار اہلکار شامل ہیں۔ اس تعیناتی میں خواتین پر مشتمل نیم فوجی دستوں کی پانچ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ایک اور سکیورٹی اقدام کے تحت دہلی پولیس نے تمام 15 اضلاع میں حراستی مراکز قائم کیے ہیں اور نئی دہلی ضلع میں 37 مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔حکام نے دہلی بھر کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاو¿سز کا معائنہ بھی کیا ہے اور منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے آنے والوں کو ٹھہرانے سے گریز کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button