مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی سہولیات کا فقدان، کپواڑہ میں پانی کی شدید قلت کے خلاف لوگوں کا احتجاج

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع کپواڑہ میں لولاب کے علاقے خمیریال کے رہائشیوں نے پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ پانی کا یہ بحران گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے جاری ہے۔
احتجاج میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ قابض حکام کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دور دراز مقامات سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ احتجاج کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔
احتجاج کرنے والی ایک خاتون نے بتایاکہ تقریباً دس سال گزر چکے ہیں، لیکن ہم آج بھی پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کئی بار متعلقہ محکمے سے رجوع کیالیکن کوئی فائدہ نہیں ہوااور مسئلہ بدستور برقرار ہے۔مظاہرے میں شامل ایک اورخاتون نے کہا کہ حکام کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرائے جانے کے باوجود اب لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اب مزید وعدے نہیں چاہیے۔ ہم اپنے گاو¿ں میں پانی کی فراہمی کا ایک مناسب اور قابلِ اعتماد نظام چاہتے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ بارہا درخواستیں دینے کے باوجود متعلقہ محکمہ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد از جلد پانی کا بحران دور نہ کیا گیا تو وہ اپنا احتجاج مزید تیز کر دیں گے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ہونے والے اس احتجاج نے ایک بار پھر اگست 2019 میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ترقی کے بھارتی دعوو¿ں کی قلعی کھول دی ہے اورکشمیری عوام کو درپیش شدید مشکلات کو نمایاں کیا ہے۔بنیادی ضروریات سے مسلسل محرومی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قابض حکام کشمیری عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اور کشمیری ضروری سہولیات کے حصول کے لیے بار بار سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button