ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی دہلی میں پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کی شدید مذمت
بھارتی فورسز کے 30 ہزار اہلکار تعینات ،گرفتاریاں، رکاوٹیں اور انٹرنیٹ پر پابندیاں
نئی دہلی : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئی دہلی میں مجوزہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بھارتی حکام کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن اجتماع اور آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے والے اقدامات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل نے کہا کہ بھارتی حکام انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مظاہروں سے روکنے کے لیے گرفتاریوں، حراستوں اور عوامی نقل و حمل و انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندیوں سمیت وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں۔9 اکتوبر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں آکار پٹیل نے کہا کہ پرامن مظاہرین کو دھمکیوں، بلاجواز گرفتاریوں یا آزادیوں پر وسیع پابندیوں کے بغیر حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر پابندیاں ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کا حق بھارتی آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے تحت محفوظ ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی، طلبہ یونینوں اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت میں یہ احتجاج 2 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔ مظاہرین الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 سے اب تک انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد افراد کے نام حذف کیے جا چکے ہیں۔
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جبکہ طلبہ رہنماﺅں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، گھروں میں نظر بند کیا گیا یا سڑک، ریل اور فضائی راستوں سے دارالحکومت پہنچنے کی کوشش کے دوران روک لیا گیا۔حکام نے دہلی میں داخل ہونے والی ٹرانسپورٹ پر بھی وسیع پابندیوں کا اعلان کیا، جن میں بسوں، ٹرکوں، ٹریکٹروں اور دیگر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت محدود کرنا شامل ہے۔ وسطی دہلی میں احتجاجی مقام سے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ کی سہولت 24 گھنٹے کے لیے بند کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
ٹرینوں کی منسوخی، پولیس کے چھاپوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق خبروں نے ان ظالمامہ اقدامات کی نوعیت اور شہریوں کی نقل و حرکت، رابطے اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی آزادی پر ان کے اثرات کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔دارالحکومت میں 22 ہزار مسلح اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ دہلی پولیس کے 10 ہزار سے زائد اہلکار بھی موجود ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائداہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز حکومت کو ہدایت کی کہ دہلی کے لیے ٹرین سروس مکمل طور پر معطل نہ کی جائے اور نہ ہی دہلی میٹرو کے اسٹیشن بند کیے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ ان خدمات کو منظم کیا جائے تاکہ عوامی ٹرانسپورٹ دستیاب رہے اور مسافروں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عدالت نے نئی دہلی انتظامیہ سے پرامن احتجاج کے لیے کسی متبادل مقام پر غور کرنے کو بھی کہا اور مظاہرین کے لیے مناسب سہولیات اور ضروری انتظامات کی اہمیت پر زور دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامات کا مقصد عوام کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ بنیادی حقوق استعمال کرنے پر لوگوں کو سزا دینا۔ آکار پٹیل نے حکام پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور پرامن اجتماع کو ممکن بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔ان واقعات نے بھارت میں انتخابی شفافیت، پولیس کی جواب دہی اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر اجاگر کر دیے ہیں۔ یہ تنازعہ شفاف انتخابی طریقہ کار اور پرامن اختلافِ رائے پر جبری پابندیوں کے خلاف موثر اقدامات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔








