بھارت

امریکہ نے بھارت کو ایف35 لڑاکا طیاروں کی کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی: بھارتی فضائیہ کے سربراہ

جودھ پور : بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو پانچویں نسل کے ایف35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی، جبکہ روس کی جانب سے ایس یو57 طیاروں کی فراہمی کی پیشکش پر بھی تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اے پی سنگھ نے یہ بات جودھ پور میں فضائی مشق ”ترنگ شکتی-2026“ کی اختتامی تقریب کے موقع پرایک پریس کانفرنس میں کہی۔امریکی پیشکش کے امکان سے متعلق خبروں پر سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے امریکی فضائیہ کی پیسیفک ایئر فورسز کے کمانڈر کے ہمراہ بیٹھے ہوئے مذاقاً کہا کہ آپ کے لوگ تو ہمیں طیاروں کے قریب تک نہیں جانے دیتے، اور آپ ہم سے اسے فروخت کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
روسی ایس یو57 طیاروں کے حوالے سے بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے تصدیق کی کہ ماسکو کی پیشکش بھارتی فضائیہ کے علم میں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا اس طیارے کا جائزہ لیا جانا چاہیے یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ جب حکومت کی جانب سے ہمیں فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا تو ہم جائزہ لیں گے کہ ایس یو57 ہماری ضروریات کس حد تک پوری کرتا ہے۔
ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے حصول کے بارے میں مختلف خبروں اور قیاس آرائیوں کے باوجود بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے نہ تو امریکہ کی جانب سے ایف35 کی فروخت کی باضابطہ پیشکش اور نہ ہی روس کے ایس یو57 طیارے کا جائزہ لینے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
بھارت اپنے مستقبل کی جنگی فضائی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے پروگرام کے تحت مقامی طور پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ تیار کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ترنگ شکتی-2026 میں بھارتی فضائیہ کے علاوہ آٹھ ممالک کی فضائی افواج نے حصہ لیا۔ اس مشق کا مقصد عملی تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ تجربات کا تبادلہ کرنا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے تازہ بیان نے مئی 2025 کے دھچکے کے بعد پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے حصول سے متعلق بھارتی فضائیہ کے منصوبوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ ان کے مطابق اس دھچکے نے بھارتی فضائیہ کی ساکھ کو متاثر کیا اور اس کی جنگی تیاریوں سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button