مقبوضہ جموں وکشمیر:ترال ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی، مریضوں کو مشکلات کا سامنا
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ضلع پلوامہ کے علاقے ترال کے رہائشیوں نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور طبی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض نجی ہسپتالوں سے علاج کرانے یا سرینگر جانے پر مجبور ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایاکہ ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں اور ضروری طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس کے باعث مقامی آبادی کی صحت کی ضروریات پوری نہیں ہو پا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے غریب اور کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ترال کی ایک گجر بستی کے رہائشی جاوید احمد نے کہا کہ مالی مشکلات کا شکار مریض نجی ہسپتالوں میں مہنگا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے مشاورت اور خصوصی علاج کی غرض سے سرینگر جانا بھی مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نجی ہسپتالوں میں علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ انتہائی غربت کے باعث سرینگر جانا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ترال میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق ہسپتال میں ہڈیوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر اور ریڈیولوجسٹ سمیت اہم ماہرین موجود نہیں ہیں۔ اس کمی کے باعث ضرورت مند مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو اکثر دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔رہائشیوں نے ہسپتال میں بستروں کی محدود تعداد پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ہسپتال میں تقریبا 30 بستروں کی گنجائش ہے، جسے بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔مقامی لوگوں نے حکام سے اپیل کی کہ ترال کے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں طبی سہولیات بہتر بنانے اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔







