پاکستان کا سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ
وقت گزرنے سے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی ضمانت ختم نہیں ہوتی، پاکستانی مندوب
نیویارک:
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک لازمی بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ بعض مقبوضہ علاقوں میں آبادکارانہ استعمار ایک طویل عرصے سے حقیقت بنا ہوا ہے، جبکہ مقبوضہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے حقِ خودارادیت کا وعدہ بھی تاحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کرنے والے مظلوم عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کی ضمانت دیتی ہیں، جنہیں بھارت اور پاکستان دونوں نے قبول کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے سے یہ بین الاقوامی وعدے ختم نہیں ہو جاتے اور نہ ہی بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات، نام نہاد قانون سازی یا ڈھونگ انتخابات کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا متبادل بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، تمام سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہا کرے، 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات واپس لے اور عالمی مبصرین کو مقبوضہ علاقے تک رسائی دے۔
پاکستانی مندوب نے فلسطین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود وہاں تشدد، نقل مکانی اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے رہی ہیں۔ انہوں نے غزہ پیس پلان اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت کرتے ہوئے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران پاکستانی سفیر کے بیان پر بھارتی وفد کی نمائندہ اور بھارتی رکنِ پارلیمنٹ مہما کماری میواڑ نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا اندرونی معاملہ۔ جھوٹے بیانیے کی تکرار تاریخ کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔
انصار شاہ نے آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے درمیان موازنہ کرنے کی بھارتی کوششوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوام آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آوازوں کو دبا دیا گیا ہے، تحریر و تقریر کو جرم بنا دیا گیا ہے اور ہزاروں افراد جیلوں میں قید ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 پر عمل کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری کی اجازت دے گا؟








