بھارت :دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے رہنماوں کو حراست میں لیا
حزب اختلاف کی جماعتوں اورسی جے پی کا گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ
نئی دہلی : دہلی پولیس نے منگل کے روز نوجوانوں کی زیرقیادت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماوں کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ جنتر منتر کے احتجاجی مقام میں داخل ہو گئے جس کو پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ گرفتاریاں سی جے پی کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے 24 گھنٹے کے الٹی میٹم کے بعد کی گئیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے لیے جنتر منتر پر مظاہرے کی تاریخ مقرر کرے۔
پیر کے روز پولیس نے اعلان کیا کہ بھارتی دارالحکومت کے مرکز میں واقع جنتر منتر کو حکومت کی طرف سے احتجاج کے لیے مقررکردہ مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے تحت مظاہرے اب تین متبادل مقامات پر کیے جاسکتے ہیں جن میں وسطی دہلی کا رام لیلا گراو¿نڈ، شمالی دہلی کا بری گراو¿نڈ اور مشرقی دہلی کے علاقے شاہدرہ میں واقع سی بی ڈی گراو¿نڈ شامل ہیں۔جنتر منتر کو کئی روز سے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیاگیاہے اور وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
تاہم منگل کے روز سی جے پی رہنما ابھیجیت دپکے کی جانب سے آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مظاہرین کو رکاوٹوں پر چڑھ کر دوسری جانب جاتے، خالی جگہ میں دوڑتے اور بھارتی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہاکہ سی جے پی جنتر منتر پر دوبارہ قبضہ کرنے کرنے کے لیے علاقے میںداخل ہوگئی ۔ تنظیم نے کہاکہ حراست میں لیے گئے افراد میں پارٹی رہنما سورَو داس، اشوتوش رانکا اور اجنکیا شنڈے شامل ہیں۔
جنتر منتر کئی دہائیوں سے بھارتی دارالحکومت میں احتجاج کے ایک اہم مقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ سی جے پی نے بھی جولائی میں وہاں مظاہرے کیے تھے، جن کے نتیجے میں امتحانی اسکینڈل کے باعث بھارتی وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی زیر قیادت سی جے پی کے حامیوں نے گزشتہ چند روز کے دوران سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔








