بھارت

فری اسپیچ کلیکٹو کا دہلی میں صحافیوں کی گرفتاری پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا مطالبہ

سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود دہلی حکومت نے صحافیوں کے کام میں رکاوٹ ڈالی

نئی دہلی:بھارت میں آزادیٔ اظہار کی علمبردار تنظیم ’’فری اسپیچ کلیکٹو‘‘ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دہلی حکومت، بھارتی وزارتِ داخلہ اور دہلی پولیس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ یہ درخواست پیر کے روز دائر کی گئی۔

اس سے قبل صحافیوں کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹنے، بغیر کسی واضح وجہ کے دھکے دے کر بسوں میں بٹھانے، پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے اور پریس کارڈ دکھانے کے باوجود حراست میں لینے کے واقعات سامنے آئے تھے۔ یہ واقعات اتوار کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے دوران پیش آئے۔

درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے 10 اکتوبر کو ہدایت دی تھی کہ وکلا، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے نہ روکا جائے۔ اس کے باوجود دہلی پولیس کے اہلکاروں نے شہر کے مختلف مقامات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو حراست میں لیا، وہاں سے ہٹایا اور دیگر طریقوں سے ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالیں۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی پر دہلی حکومت، بھارتی وزارتِ داخلہ اور دہلی پولیس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ فری اسپیچ کلیکٹو نے متعدد خبر رساں اداروں سے وابستہ صحافیوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں رپورٹنگ کے دوران حراست میں لیا گیا اور پولیس کی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے سے روکا گیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر کو درخواستوں کے ایک الگ مجموعے پر خصوصی سماعت کی، جن میں ایک درخواست بھارتی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے ذمہ دار حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے متعلق تھی۔ عدالت نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے، کیونکہ دہلی پولیس اور بعض سول حکام نے 9 اکتوبر کے عدالتی حکم کو نظرانداز کیا تھا۔ اس حکم کے تحت حکام کو شہر میں نقل و حرکت اور مواصلات پر صرف معقول پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

9 اکتوبر کو عدالت نے کہا تھا کہ ضروری عوامی ٹرانسپورٹ پر غیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں اور دہلی میٹرو کی سروس مکمل طور پر بند نہیں کی جا سکتی۔

10 اکتوبر کو ایک اور درخواست دائر کی گئی، جس میں عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے اور مظاہرین، راہ گیروں اور صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا الزام لگایا گیا۔ درخواست میں پولیس کی حراست میں لیے گئے افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر تشدد کیا گیا، انہیں وہاں سے ہٹایا گیا اور پریس شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ درخواست میں شائع شدہ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اتوار کے روز احتجاج کی کوریج کے دوران کئی معروف اور نئے صحافیوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے بدسلوکی کی گئی، انہیں دھکے دیے گئے اور ان کی توہین کی گئی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button