دہلی میں احتجاج کے دوران مودی حکومت آزادی صحافت دبارہی ہے: برطانوی اخبار
پولیس نے تین درجن صحافیوں کو گرفتارکیاجو آزادی صحافت پر حملہ ہے :بھارتی پریس کلب
نئی دہلی :برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی زیر قیادت احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے جس سے بھارت میں آزادی صحافت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دی انڈیپنڈنٹ نے 13اکتوبر 2026کو اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشافات کیے۔ رپورٹ ارپن چترویدی، شیوانگی آچاریہ اور سوربھ شرما نے مرتب کی۔اخبار نے بتایا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے انٹرویوز کے مطابق انڈین ایکسپریس، اسکرول اور نیوز لانڈری سمیت مختلف اداروں کے تقریبا تین درجن صحافیوں کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔رائٹرز کے ایک رپورٹر، انٹرویو دینے والے صحافیوں اور بھارتی ذرائع ابلاغ و ڈیجیٹل نیوز اداروں کی فوٹیج کے مطابق بعض صحافیوں کو پولیس نے گھسیٹا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پولیس نے ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے۔
یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی نے منظم کیا تھا جسے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین کا کہناہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں سے 13کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام خارج کیے گئے۔دی انڈیپنڈنٹ نے صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز کی بھارت میں نمائندہ ریتیکا جین کے حوالے سے کہاکہ کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران بھارتی حکام کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ہتھکنڈے میڈیا کوریج کو دبانے کے لیے ہیں تاکہ صحافیوں کو خاموش کرایا جائے۔انہوں نے کہاکہ حراست، نگرانی، انٹرنیٹ کی بندش اور صحافتی مواد کو ہٹانا پابندیوں کا ایک مسلسل سلسلہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم پریس کلب آف انڈیا نے پولیس کی کارروائی کو آزادی صحافت پر کھلا حملہ قرار دیا۔ آزادی صحافت کے بارے میںرپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز کی درجہ بندی میں بھارت 180ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔ ایک دہائی قبل بھارت اس فہرست میں 133ویں نمبر پر تھا۔احتجاجی تحریک کے رہنماں کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔
دریں اثناء احتجاج کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں۔ سی جے پی کے دو رہنماوں سورو داس اور آشوتوش رانکا کو بدھ کے روز پانچ روزہ عدالتی تحویل میں دے کر دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر رہے ہیں۔ناگپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیپکے نے کہاکہ میں نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتے ہیں تو باضابطہ طور پر کریں۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ بزدلوں کی طرح غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دی جائے اور جنتر منتر پر صرف قومی پرچم لہرانے پر لوگوں کو پانچ روز تک حراست میں رکھا جائے۔







