APHC-AJK

حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کی مقبوضہ کشمیر میں خطبات سے متعلق حکمنامے کی مذمت

''او آئی سی ''سے مقبوضہ علاقے میں مذہبی آزادی پر ہونیوالے حملوں کا نوٹس لینے کی اپیل

اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وقف بورڈ کی چیئرمین پرسن کے اس حکمنامے کی شدید مذمت کی ہے جس میںمساجد میں یکسان خطبے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی، جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ اور سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے ایک مشترکہ پریس بیان میں اس حکم نامے کو مقبوضہ کشمیر میں اسلام پر کنٹرول حاصل کرنے کا ایک منظم طریقہ کار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد بی جے پی کے بیانیے کو آگے بڑھانا اور تحریک آزادی کو کمزورکرنا ہے۔۔ انہوں نے اسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں سنگین مداخلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "مساجد اللہ کے گھر ہیں، نہ کہ بی جے پی ہیڈکوارٹر کے ذیلی دفاتر۔اس حکم نامے میں اماموں اور خطیبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے تیار کردہ خطبات دیںم حکم نامے کا مقصد مذہب پر ریاستی کنٹرول کو ادارہ جاتی شکل دینا اور حق کی آواز کو دبانا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مقدس منبروں کے ذریعے ریاست کا پسندیدہ بیانیہ مسلط کرنا ہے۔ رہنماں نے کہا کہ کسی وقف بورڈ، بیوروکریٹ یا سیاسی طور پر تعینات شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خطبے کے بارے میں احکامات جاری کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئمہ کرام صرف قرآن پاک اور سنتِ نبوی کے سامنے جوابدہ ہیں۔
رہنماں نے اس حکم نامے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مساجد کو بی جے پی کے پروپیگنڈا مراکز میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ایسے اقدامات کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی چہیتی درخشاں اندرابی کی زیرِ قیادت وقف بورڈ اپنی مذہبی حیثیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مزارات پر روایتی صوفیانہ رسومات پر پابندیوں ،ڈریس کوڈکے نفاذ اور مزارات کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کرنے کا حوالہ دیا ۔
انہوں نے کہا کہ اوقاف کی دکانیں اور جائیدادیں غیر ریاستی باشندوں اور بی جے پی کارکنوں کو الاٹ کر دی گئیں جو کشمیری مسلمانوں کو منظم طریقے سے بے اختیار کرنے کی کوشش قرار ہے۔ انہوں نے 2019 سے اوقاف میں ہونے والی بدعنوانیوں کی ایک آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیرشاخ نے اسلامی تعاون تنظیم ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی پر ہونے والے حملوں کا نوٹس لیں۔KMS-07/M

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button