لداخ کے گروپوں کابھارتی وزارتِ داخلہ کے مسودہ تجویز پراظہار عدم اطمینان
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ کے رہنماؤں اور بھارتی وزارتِ داخلہ کے حکام کے درمیان تازہ دورِ مذاکرات لداخ کے علاقے لہہ میں منعقد ہوئے۔مذاکرات میں لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی حکومت کیطرف سے پیش کردہ تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ اجلاس مذاکرات کے اگلے دور سے قبل منعقد ہوا، جو 22 اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونا ہے۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لداخ ایپکس باڈی کے چیئرمین چیرنگ دورجے لکروک نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے اجلاس کے دوران تجاویزکس ایک مسودہ پیش کیا، جبکہ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے بھی حکام کو اپنا مسودہ پیش کیا۔تاہم دونوں مسودوں کے درمیان بہت فرق موجود تھا،جس کے باعث کوئی معاہدہ طے نہیں ہوسکا ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اہم مطالبات آئین کے آرٹیکل 371K کی طرز پر آئینی تحفظات اور لداخ کے لیے قانون ساز اسمبلی کی بحالی ہیں۔
9 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے تھے۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے بھی بھارتی وزارتِ داخلہ کی تجویز پر مایوسی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ۔ یہ مسودہ ہمارے مطالبات یا لداخ کے عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے۔
کربلائی نے کہاکہ لداخ کی قیادت مذاکرات جاری رکھے گی لیکن اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
مئی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران،بھارتی حکومت اور لداخ کے گروپوں نے اس بات پر آئینی تحفظات کی بحالی پراصولی اتفاقِ کیا تھا، جن کے تحت ناگالینڈ، سکم اور میزورم کو خصوصی تحفظات حاصل ہیں۔









