خاتون کشمیری افسر کو دھمکانے پرسینئر بھارتی افسر تنقید کی زد میں
محبوبہ مفتی اورروح اللہ مہدی کا واقعے پر اظہارِ تشویش
سرینگر:غیر قانونی طور پربھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنماء اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے ایک خاتون کشمیری افسر کے ساتھ نامناسب رویے پر انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے سینئر افسر کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کشمیر اینڈمنسٹریٹو سروس کی خاتون افسر کے ساتھ بھارتی افسر کے رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے وزیرِ اعلی عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ یہ معاملہ بھارتی حکومت کے سامنے اٹھائیں اور متعلقہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کریں۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکرٹری کمار راجیو رنجن نے دیگر افسران کی موجودگی میں ایک خاتون کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس افسر کو دھمکی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون افسر نے اپنی بات مکمل کرنے کی کوشش کی تو سینئر افسر نے ان پر چلانے لگے ۔روح اللہ مہدی نے کہا کہ سینئربھارتی افسر نے خاتون کشمیری افسر کو مرعوب کرنے اور ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے نامناسب رویے کے باوجود خاتون افسر کے پرسکون رہنے اور اپنے موقف پر قائم رہنے کو سراہا۔
انہوں نے اس واقعے کو دفعہ 370کی منسوخی سے بھی جوڑتے ہوئے اسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتظامی طرزِ عمل سے متعلق وسیع تر خدشات کا عکاس قرار دیا۔






