جموں و کشمیر کی سرزمین جغرافیائی حسن کے استعارہ کے ساتھ ساتھ صدیوں پر محیط ایک منفرد تہذیبی، مذہبی، روحانی اور تاریخی ورثے کی امین ہے جس نے مختلف ادوار میں فکری، علمی اور روحانی روایتوں کو اپنے اندر سمویا ہے۔ یہاں کی موجودہ شناخت میں اسلام، صوفی روایت، کشمیری زبان، ثقافتی اقدار اور اجتماعی تاریخی شعور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم، ہندو فسطائی بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدیم ہندو تہذیب اور شیومت کو مرکزی شناخت کے طور پر پیش کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ ثقافتی ورثے کے احیاء اور تحفظ کے نام پر مقبوضہ علاقہ میں ہندو تہذیب کو مسلط کیا جارہا ہے۔
نام نہاد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے دسویں صدی کے کشمیری شیومت کے فلسفی ابھینو گپت پر کتاب کی رونمائی اور خطے کے بقول انکے ’’تہذیبی ورثے‘‘ کی بحالی پر زور اسی وسیع تر رجحان کی ایک حالیہ مثال ہے۔ سنہا نے ابھینوگپت کی خدمات کو نظرانداز کیے جانے کو تہذیبی حافظے کا نقصان قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں اور ثقافتی تنظیموں میں قدیم مفکرین پر تحقیق اور تعلیم کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ قدیم علمی روایت کا مطالعہ اپنی جگہ ایک جائز علمی سرگرمی ہے لیکن جب اسے ایک مسلم اکثریتی خطے کی موجودہ شناخت کو پس منظر میں دھکیلنے والے شیطانی سیاسی منصوبے کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کے خطرات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
بھارت نے 1947 میں اپنے جابرانہ تسلط کے قیام کے بعد ہی سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے فوجی طاقت، سیاسی مداخلت، استحصال، انتظامی دباؤ اور مختلف قانونی و آئینی اقدامات کا سہارا لیا ہے۔ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور حقِ خودارادیت کے سوال کو دبانے کے لیے طویل عرصے سے اختیار کی جانے والی پالیسیوں نے خطے میں ایک گہرا سیاسی بحران پیدا کیا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران قابض بھارتی فورسز کی بھاری موجودگی، خصوصی اختیارات کے حامل کالے قوانین، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کے حوالے سے کشمیری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خدشات ظاہر کرتی رہی ہیں۔ ان اقدامات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کشمیریوں کی سیاسی آواز کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی شعور، تاریخی وابستگی اور اپنی شناخت کے تحفظ کی خواہش کو بھی دبانے کی کوششیں کی رہی ہیں۔
بھارتی حکمت عملی صرف فوجی کنٹرول تک محدود نہیں ہے۔ ساڑھے تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے لاکھوں فوجیوں ۔ کالے قوانین اور ریاستی دہشت گردی کے وحشیانہ استعمال اور ریاستی دہشت گردی کے ہر ہتھکنڈے کی آزمائش کے بعد بھارت نے اسرائیلی نسخہ پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کہ کشمیریوں کو راہ آزادی سے ہٹانے کے لئے انھیں عددی اور تہذیبی طور پر ختم یا مغلوب کرنا ضروری ہے۔ جب کسی خطے ، وہ بھی مقبوضہ اور متنازعہ خطے ، کے سیاسی اختیار، زمین، روزگار، تعلیم، ثقافت اور تاریخی بیانیے سے متعلق فیصلے مقامی آبادی کی مؤثر شرکت کے بغیر کیے جائیں ، اور یہ فیصلے ان پر ٹھونس دئے جائیں تو واضع ہوجاتا ہے کہ یہ محض انتظامی انضمام نہیں بلکہ آبادی کی اجتماعی شناخت کو بھی تبدیل کرنا ہے؟
اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کی اور علاقہ کو دو وفاقی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ 31 اکتوبر 2019 کو جموں و کشمیر اور لداخ الگ الگ یونین ٹیریٹریز کے طور پر وجود میں آئے۔ بھارتی حکومت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کے بعد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ساڑھے آٹھ سو سے زائد بھارتی قوانین کو خطے میں نافذ کیا گیا اور انتظامی و قانونی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔
ان اقدامات کے بعد ڈومیسائل، سرکاری ملازمتوں، زمین اور دیگر شہری و انتظامی حقوق سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔ مئی 2020 میں بھارتی حکومت نے ڈومیسائل سے متعلق شرائط کو یونین ٹیریٹری کی تمام سطحوں کی ملازمتوں پر لاگو کرنے کی منظوری دی۔ بھارتی حکام ان اقدامات کو انتظامی اصلاحات اور یکساں قانونی نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں لیکن کشمیری حلقے، ناقدین اور خود بھارت کے کئی مبصرین انھیں سیاسی، معاشی اور آبادیاتی تطہیر سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کسی متنازع خطے میں اس کی مقامی آبادی کے سیاسی اختیار کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ زمین، روزگار اور شہریت سے متعلق قوانین بھی تبدیل کر دیے جائیں تو اس کے طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے؟ اس سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً ایسے خطے میں جہاں آبادی کی اکثریت اپنی سیاسی شناخت اور حقِ خودارادیت کے مسئلے کو بنیادی اہمیت دیتی ہو۔
کسی قوم کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ براہِ راست اس کی جسمانی تباہی ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کے سیاسی اختیار، معاشی مواقع، زمین سے تعلق، زبان، ثقافتی اداروں اور تاریخی بیانیے کو بتدریج تبدیل کر کے بھی اس کی اجتماعی حیثیت کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ اور مودی سرکار ٹھیک یہی کچھ کررہی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019 کے بعد ہونے والی قانونی و انتظامی تبدیلیوں کو محض حکومتی تنظیم نو کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں بلکہ ان کے وسیع تر سماجی اور سیاسی اثرات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کو قومی تہذیبی احیا کے ایک بڑے بیانیے میں شامل کرنے کی کوششیں اسی تناظر میں قابلِ غور ہیں۔ جب کشمیر کی تاریخ کو بنیادی طور پر قدیم ہندو تہذیب، شیومت اور بھارتی تہذیبی تسلسل کے ذریعے بیان کیا جائے اور اسکی اسلام، صوفی روایت اور مسلم اکثریت کی صدیوں پر محیط شناخت کو پس منظر میں دھکیلنے کی منصوبہ بند کوششیں کی جائیں تو یہ تاریخی نمائندگی کا توازن بگاڑنے کے ساتھ ساتھ سیدھی تہذیبی اور مذہبی یلغار ہے۔
بلاشبہ کشمیر کی تاریخ کسی ایک مذہبی روایت تک محدود نہیں۔ تاہم صدیوں پر محیط اسلامی، صوفیانہ، لسانی اور ثقافتی ارتقا اس کی تاریخ پر غالب ہے اور اس کو نظرانداز کرنا تاریخ کو ادھورا پیش کرنے کے مترادف ہوگا۔ مذہبی اورنسل پرستی کے فسطائی نظریہ اور سیاسی مقاصد کے تحت دور کی ایک تہذیب کو بحال یا مسلط کرنا اوراس سرزمین کے روم روم میں بسی دوسری حقیقی اور اکثریتی تہذیب کی نفی یا اسکی آبادی کی شناخت کو پس منظر میں دھکیلنا یا سادہ لفظوں میں جموں و کشمیر کی حسبی، نصبی اور اکثریتی تہذیب کو جبرا بیرونی ، اقلیتی تہذیب میں رنگنے کی کوشش کرنا ایک بدترین، خطرناک اور ناقابل برداشت جرم ہے۔
نام نہاد لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے ابھینوگپت سے متعلق کتاب کی رونمائی اور تہذیبی احیا کے لیے ادارہ جاتی حمایت کا مطالبہ اس جرم عظیم کا واضع عندیہ ہے۔ منوج سنہا نے اپنے بعض خطابات میں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کو ’’نشاۃ ثانیہ‘‘ اور تقدیر کی تبدیلی سے تعبیر کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایسے بیانات کو محض ثقافتی سرگرمیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ یہ 2019 کے بعد خطے میں رونما ہونے والی وسیع تر سیاسی و آئینی تبدیلیوں کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔
تاریخی مفکرین اور قدیم علمی ورثے کا احیا کسی بھی معاشرے کے لیے مثبت علمی سرگرمی ہو سکتا ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر جیسے سیاسی طور پر حساس خطے میں یہ عمل اس وقت متنازع بن جاتا ہے جب اسے ایک مخصوص قومی یا مذہبی شناخت کے غلبے کے لئے فروغ دیا جائے۔
گریز میں مودی سرکار کے ایماء پر ایک ہندو تنظیم کی طرف سے’’Tantra in Silence – A Journey Within‘‘کے نام سے مجوزہ پروگرام بھی کسی صاحب دانش کے نزدیک تہذیبی تطہیر کے منصوبے سے الگ نہیں ہے۔ مراقبہ اور نام نہاد باطنی تبدیلی کے نام پر 24 سے 27 ستمبر 2026 تک منعقد کیے جا رہے اس چار روزہ پروگرام نے مقبوضہ علاقہ کے ہر حلقے کو حیر ت و تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ اور میرواعظ عمر فاروق، مفتی آعظم کشمیر اور محبوبہ مفتی سمیت سیاسی و مذہبی حلقوں نے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ حیرت کی بات نہیں کہ جس پروگرام کو بھارت کے اپنے ایک ہندو اکثریتی شہر میں اعتراضات اٹھنے کے بعد منسوخ کیا گیا اس کو ایک حساس اور متنازعہ مسلم اکثریتی علاقہ میں مقامیوں کی مشاورت یا اجازت کے بغیر ہی منعقد کیا جارہا ہے۔
گریز اسی کشمیر کا حصہ ہے جو اسلامیو صوفی روایت اورتہذیب و ثقافت کا جداگانہ تاریخی ورثہ رکھتاہے۔ چنانچہ وہاں کسی بھی ثقافتی یا روحانی سرگرمی کے انعقاد میں مقامی آبادی کی حساسیت، تاریخی ماحول اور سماجی اقدار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ مقامی معاشرے کی شناخت اور رضامندی کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے مقابلے میں۔
بھارت کی موجودہ نو آبادیاتی پالیسیاں چیخ چیخ کر بتلا رہی ہیں کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی منفرد مسلم اکثریتی شناخت اور اس کے تاریخی ورثے کو ایک وسیع تر ہندوتہذیبی بیانیے میں اس طرح ضم کیا جائے کہ اس کی جداگانہ خصوصیات ہی نہیں بلکہ وہ حریت پسندانہ سیاسی بیانیہ بھی پس منظر میں چلی جائیں جو دہائیوں سے قائم ہے اور اور بھارت کے فوجی، قانونی اور سیاسی ہتھکنڈے کی آزمائش کے باوجود زندہ ہے۔
بھارتیوں کے اقدامات کو بہت ہی حسن ظن کا فائدہ دیا جائے تو بھی قدیم مندروں کی بحالی، ہندو مذہبی مقامات اور قدیم ہندو فلسفیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کا وسیع عمل کسی طور پر بھی مقبوضہ علاقہ کی تمام مذہبی و ثقافتی روایتوں کو مساوی احترام کی حامل پالیسی سےتعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ہی اتنی سادگی کے ساتھ اسے علمی اور ثقافتی تحفظ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مقبوضہ علاقہ کی موجودہ مسلم شناخت کی نفی، سیاسی اختیار کی مرکزیت اور آبادیاتی تبدیلیوں کے ساتھ یہ عمل اپنی وضع شکل و صورت لئے سامنے ہے اور اپنا تعارف ‘ فقط تہذیبی جارحیت’ کے طور پر ہی کراتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی، انسانی حقوق اور ثقافتی شناخت سے متعلق مسائل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ جب سیاسی اختیار محدود ہو، اظہارِ رائے پر پابندیاں ہوں، قانونی تبدیلیاں مقامی عوام کے خدشات کو جنم دیں اور تاریخی بیانیے کی تشکیل بھی مرکزی سیاسی قوت کے زیر اثر ہو، تو یہ سب تہذیبی یلغار کی خطرناک خبر دے رہے ہیں۔
عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور علمی اداروں کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ و متنازعہ علاقہ میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں، ثقافتی ورثے اور مقامی آبادی کے حقوق سے متعلق خدشات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔ کسی بھی خطے میں ثقافتی تحفظ کا مقصد وہاں کے باشندوں کی شناخت کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں کسی بیرونی یا غالب قومی بیانیے میں جذب کرنا۔
کشمیر کی شناخت کسی ایک دور کی میراث نہیں، بلکہ صدیوں کے اجتماعی تجربے کا حاصل ہے جس کی امین و نمائندہ مسلم اکثریت ہے۔ اس شناخت کا احترام، اس کے تحفظ اور اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کشمیری عوام کی آواز کو شامل کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ان کی سیاسی خواہشات اور شناخت کے سوال کو محض انتظامی فیصلوں یا تہذیبی احیا کے نعروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ان کے انسانی وقار، ثقافتی آزادی اور تاریخی تشخص ، سیاسی حقوق، اور بطور خاص عالمی سطح پر مسلمہ حق خوداردیت کا احترام واہتمام کیا جائے۔









