بھارت :جے شری رام کا نعرہ لگانے سے انکار پر مسلمان چچا بھتیجے پر بہیمانہ تشدد،مکان کو نقصان
لکھنو : بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو میں ایک مسلمان لڑکے کی جانب سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے سے انکار پر ہندو انتہاپسندوںنے اسے اور اس کے چچا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ 21 ستمبر کی رات بڑی کالی مندر علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ہندو ﺅں کی جانب سے جاگرن کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔ایک 12 سالہ مسلمان لڑکا سودا سلف خریدنے کے لیے باہر گیا تھا کہ کچھ ہندو نوجوانوں نے اسے روک کر سگریٹ لانے کو کہا اور پھر اسے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لئے کہا۔
لڑکے کے 33 سالہ چچا محمد سفیان نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکے کے انکار پر ہندو نوجوانوں میں سے ایک نے اسے تھپڑ مارا، گالیاں دیں اور تشدد کیا، جبکہ کسی شخص نے لوہے کے کڑے سے اس کے سر پر وار کیا۔ جب وہ گھر کی طرف بھاگنے لگا تو ایک ہجوم نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے گھر اور قریب واقع مسجد پر پتھراو ¿ شروع کر دیا، جس سے بالکونی سے یہ منظر دیکھنے والی اس کی بہن بھی زخمی ہو گئی۔
سفیان اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا۔ اہل خانہ کی فون کال موصول ہونے کے بعد وہ فوری طور پر گھر پہنچا جہاں اہل خانہ نے خود کو اندر بند کر رکھا تھا اور چھت پر پناہ لے رکھی تھی۔سفیان نے کہا کہ گھر کو ایک مشتعل ہجوم نے گھیر رکھا تھا جو گالیاں دے رہا تھا اور پتھراو¿ کر رہا تھا۔جب میں وہاں پہنچاتو ہجوم میری طرف دوڑا، مجھے زمین پر گرا دیا اور میرے چہرے اور جسم پر پاو¿ں سے مارنا شروع کر دیا، لاتیں ماریں اور روندتے رہے جس کا مقصد مجھے جان سے مارنا تھا۔
سفیان اور ان کے بھتیجے کے سر وںپر چوٹیں آئیں، جبکہ سفیان کے سر پر آٹھ ٹانکےں لگےں۔ پولیس نے آش±و، وکاس، آشیش، آنند اور موہت سمیت 200 سے 300 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
مسلمان خاندان نے پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واضح طور پر جان سے مارنے کی کوشش کے باوجود ملزمان پر ہلکی دفعات عائد کی گئیں اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جبکہ ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ علاقے کے ایک ہزار سے بارہ سو ہندو خاندانوں کے درمیان واحد مسلمان خاندان ہے اور علاقے کی واحد مسجد کا انتظام بھی کرتا ہے جو 1920 میں تعمیر کی گئی تھی۔ بعض ہندوانتہاپسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد مندر کی زمین پر قائم ہے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ایک وفد نے مسلمان خاندان سے ملاقات کی اور منصفانہ تحقیقات اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔







