بھارت

بھارت :مودی نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے:جنتر منتر تنازعے کے بعد کم عمر لڑکی کا بیان

نئی دہلی : بھارت میں گزشتہ ماہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں سخت زبان استعمال کرنے والی ایک 15 سالہ لڑکی نے ایک نئی ویڈیو میں کہا ہے کہ مودی نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ ویڈیو سوشل میڈیاپر وائرل ہوئی ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے اپنی آزادی سمیت سب کچھ کھو دیا۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ کی گئی، تاہم لڑکی کے وکیل نے بھارتی نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کو بتایا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار نہیں کی گئی۔’دی وائر‘ کے مطابق ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ،”مودی جی، آپ نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔ میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی اور جہاں بھی جاتی ہوں مجھے اپنا چہرہ چھپانا پڑتا ہے۔“کانگریس نے بھی یہ ویڈیو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کوشرم آنی چاہیے کہ انہوں نے 15 سالہ لڑکی کوبی جے پی کے غنڈوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر نشانہ بنوایا، اسے ہراساںکیا، دھمکیاں دلوائیں اور معافی مانگنے پر مجبور کیا۔’دی وائر‘ نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ لڑکی نے بتایا کہ اسے باقاعدگی سے زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم نہ تو مقامی پولیس اور نہ ہی دہلی پولیس نے ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی جو اس کی ذاتی معلومات عام کر کے اسے ہراساں کر رہے تھے۔درحقیقت نوئیڈا سے تعلق رکھنے والی اس کم عمر لڑکی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس نے ایک ویڈیو جاری کرکے اپنے بیان پر معذرت کی اور کہا کہ احتجاج کے دوران دوسروں کے زیر اثر آ کر اس نے یہ الفاظ کہے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس کی عمر محض 15 سال ہے اور یہ اس کی پہلی اور آخری غلطی ہوگی۔اطلاعات کے مطابق اکھنڈ بھارت ہندو سینا کی قانونی سربراہ اسمرتی سنگھ چندیل نے شکایت درج کرائی تھی۔
دریں اثناءکاکروچ جنتا پارٹی نے آن لائن اور ٹیلی ویژن پر کم عمر لڑکی کو بدنام کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کے ترجمان سورو داس نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ لڑکی کے خلاف سرکاری مشینری کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ نازیبا الفاظ کے استعمال پر فوجداری مقدمہ نہیں بنتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button