مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس انٹرنز کے بعد ویٹرنری طلبہ بھی سراپا احتجاج
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ویٹرنری طلبہ نے اپنے انٹرن شپ وظیفے میں اضافے کے دیرینہ مطالبے کے حق میں پرامن احتجاج کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ احتجاج ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کی جانب سے وظیفے میں نظرثانی کے مطالبے پر اپنی احتجاجی تحریک تیز کیے جانے کے چند روز بعد کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کا اہتمام جموں و کشمیر ویٹرنری اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کیاتھا۔ تنظیم گزشتہ تین سال سے وظیفے میں نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہے۔طلبہ کے مطابق دونوں یونیورسٹیوں ایس کے یو اے ایس ٹی جموں اور ایس کے یو اے ایس ٹی کشمیر میں انہیں چھ ماہ کے لیے ماہانہ 6,000 روپے جبکہ باقی چھ ماہ کے لیے ماہانہ 9,000 روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وظیفے میں نظرثانی کی باضابطہ تجویز بار بار یاد دہانیوں کے باوجود 2023 سے محکمہ خزانہ کے پاس زیرِ التوا ہے۔طلبہ نے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ وظیفہ بھارت بھر میں ویٹرنری طلبہ کو دی جانے والی رقم کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔جے کے وی ایس اے کی جانب سے جاری کیے گئے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بنارس ہندو یونیورسٹی اور کامدھینو یونیورسٹی میں ماہانہ وظیفہ 23,500 روپے، جی اے ڈی وی اے ایس یو میں 22,000 روپے، ڈبلیو بی یو اے ایف ایس میں 20,000 روپے، ایل یو وی اے ایس اور کے وی اے ایس یو میں 17,000 روپے جبکہ راجواَس میں 14,000 روپے ہے۔دیگر اداروں میں متھرا کی ڈی یو وی اے ایس یو میں ماہانہ وظیفہ 12,000 روپے اور ٹی اے این یو وی اے ایس میں 11,000 روپے ہے۔ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے مقابلے میں ایس کے یو اے ایس ٹی جموں اور ایس کے یو اے ایس ٹی کشمیر کے طلبہ کو چھ ماہ کے لیے 6,000 روپے اور باقی چھ ماہ کے لیے 9,000 روپے ماہانہ ادا کیے جا رہے ہیں۔جے کے وی ایس اے کے صدر ثقلین رشید نے کہا کہ ویٹرنری انٹرن شپ میں کلینیکل تربیت، فیلڈ ورک اور ہنگامی ڈیوٹیاں شامل ہونے کے باوجود یہ تفاوت برقرار ہے۔طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی خصوصی رعایت کے خواہاں نہیں بلکہ منصفانہ اور مناسب انٹرن شپ وظیفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو بھارتی اداروں میں ویٹرنری انٹرنز کو دی جانے والی رقم کے برابر ہو۔یہ پیش رفت مقبوضہ جموں و کشمیر میں طلبہ اور انٹرنز کی بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریک میں ایک اور اضافہ ہے جہاں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز پہلے ہی اپنے انٹرن شپ وظیفے میں نظرثانی کے مطالبے پر احتجاج تیز کر چکے ہیں اور مزید سخت اقدامات کا اعلان کر چکے ہیں۔







