مقبوضہ جموں و کشمیر

ڈی ایف پی کا حالیہ گرفتاریوں، چھاپہ مار کارروائیوں اور کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے حالیہ گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں اور کشمیریوں کی املاک کی ضبطی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کی سیاسی آواز کو دبانے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں کشمیری پہلے ہی جھوٹے مقدمات کے تحت بھارتی جیلوں میں نظربندہیں اور اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر حمید فیاض، محمد قاسم فکتو، ظفر اکبر بٹ، نعیم احمد خان اور ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم سمیت متعدد سیاسی رہنما اور کارکن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تہاڑ، آگرہ اور دیگر دور دراز بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری شدید گرمی، ناکافی طبی سہولیات، اہلخانہ سے دوری اور دیگر بنیادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طورپر بیمار، عمر رسیدہ اور طویل عرصے سے نظربند کشمیریوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
ترجمان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بھارتی حکومت پر دباو ڈالیں کہ وہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کا احترام کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کو بھارتی جیلوں تک آزادانہ اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے تاکہ وہ قیدیوں کے طبی، رہائشی اور مجموعی حالات کا جائزہ لے سکے اور ان سے ملاقات کر سکے۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ گرفتاریوں، چھاپہ مار کارروائیوں اور املاک کی ضبطی کے واقعات کی آزادانہ نگرانی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری سیاسی قیدیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، عالمی برادری ان کی زندگی، صحت، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ادا کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button