لداخیوں کا آئندہ مذاکرات سے قبل بھارت سے ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے کا مطالبہ
لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لداخ خطے کے رہنماﺅں نے بھارت سے آئندہ مذاکرات سے قبل ٹھوس لائحہ عمل اورتجاویز پیش کرنے مطالبہ کیاہے۔
” لہہ ایپکس باڈی“ (ایل اے بی) نے کہا ہے کہ وہ خطے کے دیرینہ سیاسی مطالبات کے حوالے سے ٹھوس تجاویز، واضح لائحہ عمل اور بروقت اقدامات کی توقع رکھتی ہے۔لہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے اس سے قبل 9 ستمبر کو بھارتی وزارت داخلہ کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے اجلاس پر مایوسی کا اظہار کیا تھا اور مذاکرات کو ”بے نتیجہ“ قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ لداخ کے اہم مطالبات پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایل اے بی کے چیئرمین چیرنگ دورجے لاکروک نے کہا کہ تنظیمیں اب بھی نئی دہلی کی جانب سے مذاکرات کے اگلے دور کے حوالے سے اطلاع کی منتظر ہیں۔ لاکروک نے ہفتے کے روز کہاکہ ملاقات اکتوبر کے پہلے ہفتے میں متوقع تھی لیکن ہمیں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ایل اے بی کے کنوینر گیلیک پھونچوک نے کہا کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے مجوزہ اجلاس کے منتظر ہیں۔ پھونچوک نے کہاکہ لداخ کو اب بھارتی وزارت داخلہ سے توقع ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 371(K) کے تحت خطے کے لیے مخصوص آئینی تحفظ کے حوالے سے ایک تفصیلی مسودہ ہمارے سامنے رکھے گی جس میں خطے کی قانون ساز اسمبلی بھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں تنظیمیں تجاویز کا بغور جائزہ لیں گی، پورے لداخ میں متعلقہ فریقوں سے مشاورت کریں گی اور خطے کے وسیع تر مفاد میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ اتفاقِ رائے قائم ہوجانے کے بعد ضروری آئینی اور قانون سازی کی تجاویز کو مناسب پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور اگر ممکن ہو تو آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران انہیں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔
پھونچوک نے کہا کہ لداخ کے عوام مسائل کے حل کے لیے کافی عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب ہم اپنے دیرینہ مطالبات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ٹھوس تجاویز، واضح لائحہ عمل اور بروقت اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ یقین دہانیوں سے عملی اقدامات کی جانب بڑھنے کا وقت آچکا ہے۔
9 ستمبر کے مذاکرات کے بعد ایل اے بی اور کے ڈی اے دونوں نے کہا تھا کہ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر ایک مسودہ تجاویز پیش کرے کیونکہ تقریباً چار ماہ کے وقفے کے بعدیہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور تھا۔ دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ ملاقات 22 مئی کو ہوئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوران بھارتی حکام اور لداخ کی تنظیموں کے درمیان اصولی طور پر اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ لداخ کو آرٹیکل 371A، 371F اور 371G کے طرز پر آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔
لداخ کو آئینی تحفظ اور جمہوری حقوق دینے میں مسلسل تاخیر کے باعث خطے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اگست 2019 میں لداخ کو بغیر قانون ساز اسمبلی کے یونین ٹیریٹری کا درجہ دیے جانے کے بعد سے مقامی لوگ اپنی سیاسی شناخت اور آبادیاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ریاستی حیثیت، آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت اور ملازمتوں و زمین کے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔








