لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ گیا تو جمہوری بھارت کے خاتمے کی گھنٹی بج سکتی ہے، جسٹس(ر) دیپک گپتا
نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دیپک گپتا نے انفرادی آزادی کے تحفظ میں عدلیہ کی ناکامی پرکڑی تنقید کرتے ہوئے اس سلسلے میں انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کی طویل قید اور ایلگار پریشد کیس کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی عمل ہی اب سزا بن چکا ہے کیونکہ لوگوں کو ملک دشمن قرار دے کر ان کی زندگیاں تباہ کر دی جاتی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گپتا نے اخبار ‘دی ٹریبیون’ میں "آزادی کا حقیقی مفہوم” کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں استدلال کیا کہ آزادی کا مطلب محض غیر ملکی تسلط سے نجات نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ شہری بغیر کسی خوف کے سوچ اور بول سکیں، اختلافِ رائے کا اظہار کر سکیں اور ذات پات یا مذہب سے قطع نظر مساوی سلوک کے حقدار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تب ہی حقیقی معنوں میں آزاد ہو سکتا ہے جب وہ بدعنوانی، تعصب، تنگ نظری اور عدم برداشت سے چھٹکارا حاصل کر لے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک آزاد ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک کہ وہاں ایک خودمختار اور نڈر عدلیہ موجود نہ ہو۔گپتا نے کہا کہ اس کے لیے ایسے ججوں کی ضرورت ہے جو دیانت دار اور ذہین ہوں اور جن میں اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کی صلاحیت موجود ہو؛ یعنی انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی قوت، ناانصافی کے خلاف لڑنے کی ہمت اور بغیر کسی خوف یا رعایت کے کام کرنے کی صلاحیت۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حالیہ برسوں میں آئینی عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور پاسداری میں مطلوبہ حساسیت یا قوت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت آزادی کے حق کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حق کی خلاف ورزی بغیر کسی روک ٹوک کے کی جا رہی ہے اور بہت سے معاملات میں عدالتیں محض "خاموش تماشائی” کا کردار ادا کر ہی ہیں۔
گپتا نے ضمانت اور مقدمے کی سماعت سے قبل طویل حراست کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ جیلوں میں بند لوگوں میں سے تقریباً 75 فیصد وہ ہیں جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد تقریباً 24 فیصد ہے؛ انہوں نے اسے حیران کن قرار دیا کہ ہر ایک سزا یافتہ شخص کے مقابلے میں تقریباً تین ایسے قیدی ہیں جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں۔ گپتا نے اس حوالے سے انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا”عمر خالد چھ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں اور مقدمے کی سماعت ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ ان کی آزادی کے حق کا کیا ہوگا؟ ان کے فوری ٹرائل کے حق کا کیا بنے گا؟۔ انہوں نے ’الگار پریشد کیس کا بھی حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ ملزمان برسوں تک جیل میں رہے اور ان میں سے ایک کی جیل ہی میں موت واقع ہو گئی جبکہ واقعہ کے آٹھ سال بعد بھی مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہو سکی ہے۔ اس مقدمے میں انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں، وکلاء اور ماہرینِ تعلیم کی گرفتاری شامل ہے جن پر بھارتی حکام نے کالعدمکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماو¿سٹ)‘ سے روابط رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
گپتا نے سوال اٹھایا کہ اگر الزامات اتنے ہی سنگین تھے جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے تو استغاثہ نے مقدمے کی سماعت شروع کرنے میں ویسی عجلت کیوں نہیں دکھائی؟ ۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں کو "قوم مخالف” قرار دے کر مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور ان کی زندگیاں تباہ کر دی جاتی ہیں، جبکہ عدالتیں ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔
گپتا نے بھارتی عدلیہ کے اندر ’اکثریت پسندی کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اگرچہ جمہوریت کی بنیاد اکثریتی حکمرانی پر ہوتی ہے، لیکن اکثریت پسندی میں مخالف فریق کی بات نہیں سنی جاتی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں تمام سطحوں پر اکثریت پسندی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔اس تناظر میں انہوں نے رام جنم بھومی اور گیان واپی مسجد کے مقدمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ مو¿خر الذکر معاملے نے مقدمہ بازی کا ایسا سیلاب کھول دیا ہے جو مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو اکثریت کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا اقدام قرار دیا۔گپتا نے ضمانت کے معاملات میں مختلف برادریوں کے لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں فرق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک برادری کے ارکان جنہوں نے دریائے گنگا میں کشتی پر مرغی کا گوشت کھایا تھا، انہیں مہینوں تک ضمانت نہیں ملی، جبکہ اکثریتی برادری کے ارکان،جنہوں نے اسی دریا پر شراب پی تھی، انہیں چند گھنٹوں کے اندر ضمانت مل گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا امتیازی سلوک انصاف، آزادی، مساوات یا اخوت نہیں ہے جس کی آئین نے ضمانت دی ہے۔گپتا نے اپنے مضمون کے اختتام پر خبردار کیا کہ اگر لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ گیا تو یہ ادارہ غیر مو¿ثر ہو سکتا ہے اور جمہوری بھارت کے خاتمے کی گھنٹی بجا سکتا ہے۔







