شیخ تجمل الاسلام: گھٹن کے عہد میں صدائے حق اور فکری بیداری کا علم بردار
کچھ شخصیات تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ تاریخ کے ایک پورے عہد پر اپنے نقوش ثبت کر جاتی ہیں۔ شیخ تجمل الاسلام بھی ایسی ہی ہمہ جہت، صاحبِ بصیرت اور غیر معمولی عزم رکھنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اسلام کی دعوت، فکری بیداری، نوجوانوں کی تنظیم اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے وقف کر دی۔ وہ دانش ور، صحافی، وکیل، مصنف اور سیاسی مفکر ہونے کے ساتھ ایک ایسے بے باک کشمیری رہنما تھے جنہوں نے اپنے عہد کی سیاسی مصلحتوں اور فکری جمود کو چیلنج کرنے کی جرأت دکھائی۔
سرینگر میں آنکھ کھولنے والے شیخ تجمل الاسلام نے یونیورسٹی آف کشمیر سے ایل ایل بی اور اردو میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور 1979ء سے 1984ء کے دوران اس پلیٹ فارم کی قیادت کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں میں اسلامی شعور، فکری بیداری اور سیاسی آگہی پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شخصیت ایک طالب علم رہنما سے ایک بااثر فکری اور انقلابی آواز میں ڈھلتی گئی۔
گھٹن کے ماحول میں بغاوتِ فکر
اس زمانے میں جموں وکشمیر میں بعض دوسری مذہبی و اسلامی تنظیمیں بھی دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کے مختلف میدانوں میں سرگرم تھیں، مگر بھارتی غاصبانہ قبضے اور کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کے سوال پر ان کی آواز نمایاں طور پر سنائی نہیں دیتی تھی۔ دوسری طرف بھارتی اقتدار اور اس کے ساتھ چلنے والی مقامی انتظامیہ کشمیری عوام کو مسلسل سیاسی دباؤ، جبر اور ناانصافی کا سامنا کرا رہی تھی۔
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں شیخ تجمل الاسلام نے خاموشی کو مصلحت نہیں بننے دیا۔ 1975ء کے اندرا-عبداللہ معاہدے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال کو انہوں نے کھلے الفاظ میں چیلنج کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کیا کشمیر کے سیاسی مستقبل کو محض اقتدار کی مفاہمتوں اور سیاسی مصلحتوں کے ذریعے طے کیا جا سکتا ہے؟ اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اسلامی انقلاب، فکری آزادی اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بات اس وقت بلند کی جب اس نوعیت کی آواز بلند کرنا آسان نہیں تھا۔
ان کی تقاریر اور سرگرمیوں نے نوجوانوں میں ایک نئی فکری بے چینی پیدا کی۔ وہ نوجوانوں کو محض سیاسی نعروں کا پیروکار بنانے کے بجائے انہیں اسلامی فکر، مطالعے، تنظیم اور اجتماعی شعور سے آراستہ کرنا چاہتے تھے۔
یوتھ انٹرنیشنل کانفرنس؛ جسے روک کر بھی نہ روکا جا سکا
شیخ تجمل الاسلام کی فکری و تنظیمی جدوجہد کا ایک نمایاں سنگِ میل 1980ء کی دہائی کے اوائل تا وسط میں سرینگر میں ایک بڑے پیمانے کی بین الاقوامی یوتھ کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ تھا۔ یہ محض ایک اجتماع نہیں تھا بلکہ کشمیری نوجوانوں کو عالمی سطح پر جوڑنے، ان میں اسلامی و سیاسی شعور اجاگر کرنے اور کشمیر کی صورتِ حال کو وسیع تر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ایک غیر معمولی کوشش تھی۔
تاہم اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں قائم انتظامیہ نے اس کانفرنس کو منعقد ہونے سے روک دیا اور اس پر پابندی عائد کر دی۔ انتظامیہ اجتماع کو روکنے میں تو کامیاب ہوگئی، لیکن اس کے پیغام کو خاموش نہ کر سکی۔ کانفرنس کے انعقاد کی وسیع تشہیر ہی نے اس کے کئی بنیادی مقاصد پورے کر دیے؛ کشمیر کے نوجوانوں کی فکری بیداری، ان کی سیاسی امنگوں اور ایک نئی اسلامی و انقلابی سوچ کی موجودگی کا پیغام وادی سے باہر بھی پہنچ گیا۔
یوں جس کانفرنس کو انتظامی طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی، وہ اپنے انعقاد سے پہلے ہی ایک پیغام، ایک سوال اور ایک فکری چیلنج بن چکی تھی۔
کشمیر سے دہلی، دہلی سے نیپال—مگر مشن وہی رہا
شیخ تجمل الاسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، بے باکی اور سیاسی سرگرمیوں نے حکمران حلقوں کی تشویش میں اضافہ کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد کی گئی، نگرانی اور ریاستی دباؤ بڑھا اور بالآخر حالات نے انہیں کشمیر سے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔
دہلی کو عارضی مسکن بنانے کے باوجود ان کی جدوجہد میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک معروف اسلامی طلبہ تنظیم کو فعال بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
بعد ازاں بھارتی ریاستی دباؤ نے انہیں نیپال ہجرت پر مجبور کیا۔ مگر ہجرت بھی ان کے عزم کی راہ میں دیوار نہ بن سکی۔ نیپال میں انہوں نے مقامی مسلم نوجوانوں کو منظم کیا، انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، مختلف بین الاقوامی اسلامی تنظیموں سے متعارف کرایا اور باہمی روابط کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ مقامی قوانین اور تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے مختلف اداروں کے قیام میں بھی معاونت کی۔ انہی مسلم رفقاء میں سے ایک ادارے نے بعد ازاں قرآنِ کریم کا نیپالی زبان میں ترجمہ بھی انجام دیا، جو ان کی دعوتی و فکری جدوجہد کے دیرپا اثرات کی ایک نمایاں مثال ہے۔
نیپال میں قیام کے دوران انہیں ایران میں منعقد ہونے والی متعدد بین الاقوامی اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ ان علمی اور فکری دوروں کے دوران انہوں نے مختلف علمی مراکز، دانش کدوں اور مدارس کا دورہ کیا، جید علماء اور اہلِ علم سے ملاقاتیں کیں اور ان کے علم وفضل سے استفادہ کیا۔ وہ ان تجربات کو اپنی زندگی کے قابلِ فخر اور یادگار علمی لمحات میں شمار کرتے تھے اور علماء کی عزت و تکریم کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔ ایران میں ہونے والی ان ملاقاتوں اور علمی روابط نے ان کی فکری تشکیل پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کیے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دینی دعوت کے معاملے میں علمی احتیاط، ذمہ داری اور بصیرت پر بہت زور دیتے اور کہا کرتے تھے کہ دین کی تبلیغ ایک نہایت نازک اور ذمہ داری کا کام ہے، جس میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے اور یہ ذمہ داری ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
شیخ تجمل الاسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے بھی گہری فکری وابستگی اور اثر پذیری رکھتے تھے۔ اسلامی فکر، دعوت، تنظیم اور اجتماعی زندگی کے بارے میں ان کے تصورات میں مولانا مودودیؒ کی فکری روایت کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی تھی، تاہم ان کی اپنی وسیع علمی و عملی زندگی نے ان کے فکر و تجربے کو ایک منفرد وسعت بھی عطا کی۔
پاکستان؛ جدوجہد کے ایک نئے باب کا آغاز
بالآخر شیخ تجمل الاسلام پاکستان پہنچے اور یہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں، علم اور تجربے کو اسلام اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے پوری طرح وقف کر دیا۔ وہ غیر معمولی وسعتِ مطالعہ رکھنے والے شخص تھے۔ اسلامی لٹریچر کے ساتھ ساتھ طب، سیاسیات، تاریخ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کتب کا گہرا مطالعہ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
یہی وسیع مطالعہ انہیں محض ایک مقرر یا کارکن نہیں رہنے دیتا تھا؛ وہ دوراندیش مفکر، صاحبِ بصیرت تجزیہ نگار اور وژنری رہنما کے طور پر سامنے آتے تھے۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، فکر میں وسعت اور سیاسی معاملات کے تجزیے میں غیر معمولی بصیرت نمایاں تھی۔
ان کی صحبت سے ہزاروں افراد نے علم، فکر اور عمل کی روشنی حاصل کی۔ بہت سے لوگ آج بھی ان کی تحریروں، تعلیمات اور عملی زندگی سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔ یہی کسی صاحبِ فکر انسان کی اصل میراث ہوتی ہے کہ اس کی آواز اس کے وجود سے آگے زندہ رہتی ہے۔
شیخ تجمل الاسلام 5 ستمبر 2021ء کو وفات پا گئے، مگر ان کا فکری سفر اختتام پذیر نہیں ہوا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جغرافیہ بدل سکتا ہے، حالات انسان کو ہجرت پر مجبور کر سکتے ہیں، ریاستی جبر راستے مسدود کر سکتا ہے، لیکن ایک صاحبِ یقین انسان کے عزم، فکر اور مقصد کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
شیخ تجمل الاسلام کی زندگی دراصل دعوت سے تنظیم، تنظیم سے فکری مزاحمت، فکری مزاحمت سے ہجرت اور ہجرت سے عالمی سطح پر اسلامی و کشمیری جدوجہد کے فروغ کا ایک ایسا سفر ہے جس کے نقوش آج بھی باقی ہیں۔
وہ چلے گئے، مگر ایک فکر، ایک عزم اور ایک مشن چھوڑ گئے—
ایسی فکر جو مصلحت کے اندھیروں میں بھی حق کی روشنی تلاش کرتی ہے، اور ایسا عزم جو حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے تاریخ کا رخ بدلنے کی جدوجہد کرتا ہے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را







