مقبوضہ کشمیر:28 فیصد رقبہ لینڈ سلائیڈنگ ”زمین کھسکنے ”کے لیے شدید خطرے کی زد میں
سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں یونیورسٹی محققین کی سربراہی میں کی گئی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ علاقے کا تقریبا 28 فیصد رقبہ لینڈ سلائیڈنگ ”زمین کھسکنے ”کے لیے شدید یا انتہائی شدید خطرے کی زد میں ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محققین نے سیٹلائٹ تصاویر، ریموٹ سینسنگ اور زمینی مشاہدات کی مدد سے تقریبا 43,000 مربع کلومیٹر رقبے کا جائزہ لیا اور لینڈ سلائیڈنگ کے 669 واقعات کا ریکارڈ تیار کیا۔ اس رقبے میں سے 24.43 فیصد حصہ "شدید خطرے” اور 3.65 فیصد حصہ "انتہائی شدید خطرے کے زمرے میں آتا ہے”، جو مل کر تقریبا 28 فیصد بنتا ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ کے سب سے زیادہ مراکز ڈوڈا، کشتواڑ، رام بن، راجوری اور پونچھ کے اضلاع میں پائے گئے ہیں۔ سری نگر-جموں شاہراہ، کٹرہ-قاضی گنڈ ریلوے کوریڈور، مغل روڈ اور بٹوٹ-کشتواڑ شاہراہ اس خطرے کی زد میں سب سے آگے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس تباہی کے پیچھے تین بڑے عوامل کی نشاندہی کی ہے ۔ سڑکوں، سرنگوں کی تعمیر اور پہاڑوں کی کٹائی کی وجہ سے ڈھلوانیں غیر مستحکم ہو رہی ہیں۔ہمالیہ کے اس خطے کی قدرتی بناوٹ اور تیز ڈھلوانیں مٹی کو جلد نیچے دھکیلتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب یہاں کئی دنوں تک ہلکی بارش کے بجائے چند گھنٹوں میں شدید ترین بارش ،بادل پھٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، جس سے مٹی کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال اور دیگر ہمالیائی خطوں میں آنے والی حالیہ قدرتی آفات کے تناظر میں، جموں و کشمیر کے لیے ان خطرات کے نقشوں کو مدنظر رکھ کر ہی مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔








