مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر: ہائیکورٹ نے ایک کشمیری کی پرانے مقدمے میں بریت کالعدم قرار دیدی

ٹرائل کورٹ کو محمد یوسف لون کے خلاف نئے سرے سے مقدمہ چلانے کا حکم

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے 2013 کے ایک مقدمے میں ایک کشمیری کی بریت کو کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو نئے سرے سے مقدمہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار کی سربراہی میں ایک ڈویڑن بنچ نے یہ حکم محمد یوسف لون کے کیس میں دیا جسے قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کپواڑہ نے بری کردیا تھا۔
یہ مقدمہ 08 نومبر 2013 کو جامع مسجد کپواڑہ سے نکلنے والے ایک جلوس سے متعلق ہے، جس کی قیادت بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی شہید اور محمد یوسف لون کر رہے تھے۔فرد جرم میں بھارت مخالف نعرے لگانے اور بھارتی فورسز اہلکاروں پر پتھراو¿ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو فرد جرم کو بحال کرنے اور ریکارڈ پر رکھے گئے مواد پر غور کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ہدایت کی۔
سری نگر میں قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کشمیریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں پرانے مقدمات کی بحالی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کو دبانا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button