بھارت

سہارنپور مسجد انہدام: 1909 کی اینٹ اور قدیم کنویں نے انہدائی کارروائی پر مزید سوالات کھڑے کر دیے

لکھنو: ترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کے بعد ملبے سے 1909 کی بنی ایک اینٹ ملنے اور تقریباً 20 فٹ گہرا قدیم کنواں برآمد ہونے کی اطلاعات نے مسجد اور اس مقام کی تاریخ سے متعلق بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ کنویں کی تاریخی حیثیت معلوم کرنے کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( اے ایس آئی )نے بھی جانچ شروع کردی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 ستمبر کو سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں منہدم کردیا تھا۔ مسجد کے متولی اور مسلم فریق کا کہنا تھا کہ انہیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور اگر ہائی کورٹ سے بھی اپیل مسترد ہوتی تو انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا قانونی حق حاصل تھا، لیکن یوگی حکومت کی انتظامیہ نے 5 ستمبر کی علی الصبح تقریباً پانچ بجے بھاری پولیس فورس کے ساتھ اچانک کارروائی کرتے ہوئے مسجد پر بلڈوزر چلا دیا۔ مسلم فریق نے کارروائی کے طریقہ کار اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل موقع نہ دیے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔
مسجد کے انہدام کے اگلے روز ملبہ ہٹاتے وقت ایک سلیب کے نیچے اینٹوں سے بنا ہوا کنواں سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کنواں تقریباً 20 فٹ گہرا اور ڈیڑھ میٹر چوڑا ہے؛ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ تقریباً ایک صدی پرانا معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی حقیقی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔ انتظامیہ نے کنویں کو محفوظ کرتے ہوئے آثارِ قدیمہ کے ماہرین سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا۔
7 ستمبر کو اے ایس آئی کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر کنویں کی ساخت اور تعمیر کا معائنہ کیا اور مزید تحقیق کے لیے اس کے نمونے بھی حاصل کیے۔ ماہرین یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کنواں کس دور میں تعمیر ہوا تھا۔ ماضی میں پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی عام ہونے سے پہلے کنویں شہری اور مذہبی مقامات پر پانی کا اہم ذریعہ ہوتے تھے، جبکہ مساجد کے قریب یا احاطے میں وضو اور دیگر ضروریات کے لیے کنویں کا ہونا بھی غیر معمولی نہیں تھا۔اسی دوران مسجد کے ملبے سے ایک ایسی اینٹ ملی ہے جس پر سن 1909 درج ہے جس پر انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اینٹ کی تصویر اور اس پر درج سال نے مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ مسجد انتظامیہ اسے مسجد کے سو سال سے زیادہ پرانی ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کررہی ہے۔ مسجد کمیٹی پہلے ہی اسے ایک صدی سے زائد پرانی قرار دے چکی ہے اوراس نے اس سلسلے میں ثبوت کے طور پر یکم جنوری 1911 کا بجلی کا بل بھی پیش کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس بات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ مسجد کو 115 سال پرانا قرار دیے جانے کے باوجود اسے کیسے منہدم کیا جاسکتا ہے ۔کورٹ کے حکم اور کارروائی کے طریق کار پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں.

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button