آسام :73 مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوزرسے مسمار کر دئے گئے
نئی دلی:بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر اقتدار ریاست آسام کے ضلع گوالپارہ میں انتظامیہ نے73مسلم خاندانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیاہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس زمین کی ملکیت سے متعلق قانونی دستاویزات موجود ہیںتاہم انتظامیہ نے بلڈوزر چلا کر ان کے گھر مسمار کر دئے ہیں ۔ متعدد متاثرین نے میڈیاکوبتایا کہ وہ 2017میں دریائے برہم پتر کے کٹائو کے باعث اپنے گھر اور زمین سے محروم ہونے کے بعد اس علاقے میں منتقل ہوئے تھے۔مقامی رہائشیوں، قانونی ماہرین اور سیاسی مبصرین نے اس کارروائی پر تنقید کی ہے۔ ناقدین نے بالخصوص قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کارروائی، مناسب پیشگی نوٹس اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔مقامی رہائشیوں اور نگران اداروں کے مطابق خاندانوں کوگھر خالی کرنے کیلئے صرف 24گھنٹے کا نوٹس دیا گیاتھا۔ قانونی اور سیاسی حلقوں نے بھی کارروائی میں مناسب قانونی طریقہ کار کی پاسداری اور ریاست میں تیزی سے جاری انسداد تجاوزات کی مہم کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔اس کارروائی نے کمزور اور پسماندہ طبقات کے تحفظ، ان کے گھروں اور املاک کے قانونی تحفظ اور قانون کے تحت مساوی سلوک سے متعلق وسیع تر خدشات کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب ضلع گوالپارہ کے ڈپٹی کمشنر پردیپ ٹمنگ نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ خاندانوں نے زمین خریدی تھی، تاہم انہوں نے زرعی زمین کو رہائشی استعمال میں تبدیل کرنے کے لیے مطلوبہ اجازت حاصل کیے بغیر وہاں مکانات تعمیر کیے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کارروائی کا مقصد زرعی اراضی، آبی ذخائر اور قدرتی نکاسی آب کے راستوں کا تحفظ ہے اور اس کارروائی کا کوئی فرقہ وارانہ مقصد نہیں۔






