جنیوا:شمیم شال کا انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کو درپیش مشکلات پر اظہارتشویش
جنیوا : کشمیری رہنما شمیم شال نے انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کو درپیش مشکلات پرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شمیم شال جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر ایک تقریب خطاب کررہی تھیں۔یہ تقریب اقوام متحدہ میں قبرص کے مستقل مشن اور خواتین اور پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنرنےمنعقد کی تھی۔ تقریب میں تنازعات اور بحرانوں میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کو درپیش مشکلات اور ان کے لیے موثر تحفظ اور معاونٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران شمیم شال نے خواتین اور بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عزم اور احتساب کے درمیان موجود خلا سے متعلق اہم سوال اٹھایا۔انہوں نے سوال کیا کہ انسانی حقوق کا نظام سنگین خلاف ورزیوں پر ریاستوں کو جواب دہ بنانے میں اب بھی مشکلات سے دوچار کیوں ہے اور موجودہ بین الاقوامی نظام اکثر ان متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہتا ہے جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔انہوں نے 70 سالہ کشمیری خاتون سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کے معاملے کو بھی اجاگر کیا جو تین مرتبہ عمر قید کی سزا کے تحتمسلسل نظربند ہیں۔ شمیم شال نے آسیہ اندرابی کی صحت بالخصوص ذیابیطس اور گھٹنوں کے شدید مسائل سے متعلق اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ دورانِ حراست انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کس حد تک مناسب ہیں۔شمیم شال نے کہا کہ طویل عرصے تک نظربند رہنے والی انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں اور خواتین سیاسی رہنماوں کو موثر بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے ، باالخصوص ایسے حالات میں جب ان کی صحت اور بنیادی حقوق کو خطرات لاحق ہوں۔انہوں نے اس ضرورت کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ بین الاقوامی ادارے محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہیں بلکہ تنازعات اور بحرانی حالات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے مو¿ثر تحفظ، جواب دہی اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔








