بھارت

بھارت میں اقلیتوں کو امتیازی سلوک ، گرفتاریوں، تشدد اور دباو کا سامنا ہے:رپورٹ

نئی دہلی: بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مواد کی بنیاد پر تیار کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس امر کو اجاگر کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کو کس طرح سلب کیاجا رہا ہے، جبکہ ملک کی جمہوریت کو ”استثناو¿ں والی جمہوریت“ قرار دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت میں تقریباً 70 فیصد قیدی مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں، جن میں مسلمانوں اور سکھوں کی تعداد غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق نچلی عدالتوں میں 4 کروڑ سے زائد جبکہ ہائی کورٹس میں 60 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں اوراس تاخیرسے خاندان اور روزگار غیر یقینی صورتحال کا شکارہیں۔2020 میں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت گرفتار کیے گئے کارکن عمر خالد کا معاملہ بغیر سزا کے طویل نظربندی کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو انتہا پسند تنظیموں کے تشدد، پولیس کی ناکامی اور عدالتی احکامات کے بغیر ”بلڈوزر انصاف“ کے ذریعے گھروں کی مسماری کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق عیسائی تبدیلیِ مذہب سے متعلق کالے قوانین سے متاثر ہورہے ہیںجن میں بعض قوانین کے تحت عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے، اور یہ قوانین مذہب کی جبری تبدیلی اور رضاکارانہ طور پر مذہب اختیار کرنے کے درمیان فرق کو دھندلا دیتے ہیں۔
سکھوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ کسانوں کے احتجاج کو ”ملک دشمن“ قرار دیا گیا، جبکہ بیرونِ ملک سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے والی سرحد پار ریاستی کارروائیوں کے سنگین الزامات کی بھی نشاندہی کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دلتوں کو ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے جو عیسائیت یا اسلام قبول کرنے کی صورت میں مزید سنگین رخ اختیارکرجاتا ہے کیونکہ انہیں مراعات سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں اقلیتوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کو 2014 سے مودی حکومت کے دورِ اقتدار سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جمہوری ساکھ کا انحصار مقدمات کی بروقت سماعت، تشدد سے تحفظ اور احتساب پر ہے۔ رپورٹ میںسوال اٹھایا گیا کہ کیا ایک مسلمان اپنے گھر کا دفاع کر سکتا ہے، ایک عیسائی آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کر سکتا ہے، ایک سکھ احتجاج کر سکتا ہے اور ایک دلت ذات پات سے قطع نظر انصاف حاصل کر سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button