بھارت

بھارت :ہندو انتہا پسند تنظیم کے دباو پر عمر خالد کے بارے میں دستاویزی فلم کی نمائش منسوخ

بنگلورو:بنگلورو کی نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU)میں جیل میں نظربند طالب علم رہنماعمر خالد پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کی مجوزہ نمائش راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS)کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP)کے دبائو پر منسوخ کر دی گئی ہے۔
فلم ساز للت وچھانی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی دستاویزی فلم ”قیدی نمبر626710 حاضر ہے ”کی نمائش نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم لا اینڈ سوسائٹی کمیٹی کی جانب سے کی جانی تھی۔اے بی وی پی کے احتجاج کے بعد نمائش پہلے ہی انتظامی اور سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ملتوی کر دی گئی تھی۔ اے بی وی پی نے تقریب کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اگرچہ اے بی وی پی نے ہفتے کے روز دعوی کیا کہ نمائش منسوخ کر دی گئی ہے، تاہم لا اینڈ سوسائٹی کمیٹی کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ۔ایک بیان میں اے بی وی پی بنگلورو نے کہا کہ وہ نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی میں عمر خالد کے بارے میں دستاویزی فلم کی نمائش منسوخ کیے جانے کا خیر مقدم کرتی ہے۔اے بی وی پی نے بھارتی وزیر قانون و انصاف ارجن رام میگھوال سے بھی مجوزہ نمائش کی تحقیقات کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اے بی وی پی نے کہا کہ اعلی قانونی و تعلیمی اداروں کو ایسے افراد کے نظریات کی تشہیر کا پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے جو ملک پر حملوں کو قابلِ فخر قرار دینے یا جموں و کشمیر کی علیحدگی اور تقسیم کی حمایت کرتے ہوں۔فلم کی نمائش کا معاملہ کرناٹک میں حکمران کانگریس کے رہنمائوں جن میں ریاستی صدر بی کے ہری پرساد بھی شامل ہیں اور اے بی وی پی و بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے درمیان لفظی جنگ کا باعث بھی بنا۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو قوم پرست قرار دیا ۔عمر خالد کو فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف دیگر دفعات کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک کے قانون (UAPA)کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button